اسٹاک ایکسچینج میں مندی : کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1500 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ
- بینچ مارک انڈیکس 167,451.13 کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مندی کا رجحان غالب رہا، جس کی بڑی وجہ عالمی منڈیوں میں جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام کے باعث آنے والی گراوٹ بنی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کا آغاز نسبتاً مثبت انداز میں ہوا اور ابتدائی گھنٹوں میں انڈیکس 169,687.29 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔
تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ ابھر کر سامنے آیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ہمہ جہت مندی دیکھی گئی۔ دن کے آخری حصے میں فروخت کے اس دباؤ میں شدت آگئی اور انڈیکس 168,000 کی نفسیاتی حد سے نیچے گرتے ہوئے 167,329.34 پوائنٹس کی کم ترین سطح کو چھو گیا۔
اگرچہ دوپہر کے قریب مارکیٹ نے سنبھلنے کی تھوڑی کوشش کی لیکن سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع خوری کے باعث یہ بحالی عارضی ثابت ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,465.09 پوائنٹس یا 0.87 فیصد کمی کے بعد 167,451.13 کی سطح پر بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف ) اور ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی (آرایس ایف) کے تحت تقریباً 1.3 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ اور بڑی حد تک بے رونق کاروباری سیشن دیکھا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور امریکہ-ایران مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے اور حصص فروخت کے دباؤ کی لپیٹ میں آ گئے جس کی وجہ سے بینچ مارک انڈیکس مندی میں بند ہوا۔
گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,590.09 پوائنٹس یا 0.93 فیصد کی کمی سے 168,916.22 پوائنٹس پر بند ہوا ۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی سیشن کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا جہاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار رہے جبکہ توقع سے زیادہ امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصان کو مزید واضح کردیا ہے۔
جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.6 فیصد تک گرگیا جس میں مسلسل دوسرے دن کمی دیکھی گئی کیونکہ کوریائی حصص دوبارہ بحال ہونے سے قبل 3.2 فیصد تک گرگئے تھے۔ کوریا کی مارکیٹ حالیہ ہفتوں میں بہت تیزی سے بڑھی تھی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی لہر کے باعث باقاعدگی سے نئے ریکارڈ بنا رہی تھی جس کے بارے میں بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اب وہاں واپسی یا گراوٹ کا وقت آ گیا تھا۔
جاپان کا نکی 225 انڈیکس 0.2 فیصد گرگیا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں بھی 0.1 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔


Comments