BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

واشنگٹن کا بیجنگ پر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دباؤ، چین کا دشمنی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ

  • بیجنگ میں 14 سے 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات میں اسی موضوع کے چھائے رہنے کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران جنگ نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے اور اب بیجنگ میں 14 سے 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات میں اسی موضوع کے چھائے رہنے کا امکان ہے۔

نیچے وہ اہم معاملات درج ہیں جو واشنگٹن اور بیجنگ کے لیے داؤ پر لگے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ نے ان کے وسیع تر تعلقات کے حساب کتاب کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ایران جنگ بندی مذاکرات

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ دونوں صدور ایران جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی خاطر اس ”بین الاقوامی آپریشن“ میں امریکہ کا ساتھ دے۔ اگرچہ بیجنگ نے گزشتہ ماہ پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران کو قائل کرنے کی پسِ پردہ کوششیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف واشنگٹن کے ایما پر کام نہیں کرے گا۔

گزشتہ ہفتے ایرانی وزیرِ خارجہ کے دورہ بیجنگ کے بعد چین نے ”دشمنی کے مکمل خاتمے“ کا مطالبہ کیا ہے۔ جوہری مسئلے پر چین کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے ایرانی عزم کی قدر کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے ایران کے جائز حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ایران 20 سال تک یورینیم افزودہ کرنے کا حق ترک کر دے اور اپنے افزودہ ذخائر حوالے کر دے۔

توانائی کا تحفظ

جنگ طویل ہونے کے ساتھ چین کے لیے توانائی کے تحفظ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے بیجنگ کو اپنی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیٹرول اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات کی منافع بخش برآمدات میں کٹوتی کرنا پڑی ہے۔ چین کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً نصف مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے بحری جہاز خلیج کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں اور ان پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اپریل میں چین کی مجموعی خام تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد کمی آئی، جو تقریباً چار سال کی کم ترین سطح ہے۔

ایرانی تیل اور اسلحہ فروخت پر امریکی پابندیاں

ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باوجود چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایران کے برآمدی تیل کا 80 فیصد سے زائد حصہ چین جاتا ہے، کیونکہ چین کی نجی ریفائنریاں امریکی پابندیوں کے شکار سستے ایرانی تیل سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تخمینے کے مطابق چین نے 2025 میں روزانہ اوسطاً 13.8 لاکھ بیرل ایرانی تیل خریدا۔

اپریل میں امریکی محکمہ خزانہ نے اربوں ڈالر کا ایرانی تیل خریدنے پر چینی ریفائنری ’ہینگلی پیٹرو کیمیکل‘ پر پابندیاں عائد کیں اور دو چینی بینکوں کو بھی ثانوی پابندیوں کی وارننگ دی گئی۔ بیجنگ نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں پر عمل نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور پہلی بار ایک ایسے قانون کا سہارا لیا ہے جو بیجنگ کو ”غیر قانونی“ پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا حق دیتا ہے۔ ٹرمپ کے دورے سے محض چند روز قبل امریکہ نے دو چینی اور دو ہانگ کانگ کی کمپنیوں پر ایران کو اسلحہ اور بیلسٹک میزائل کا سامان فراہم کرنے کے الزام میں مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

Comments

200 حروف