آئی پی او سے قبل سروس لانگ مارچ ٹائرز کی مالیت 550 ملین ڈالر ریکارڈ
- کمپنی کا 2 سال میں بلین ڈالر کمپنی بننے کا ہدف ہے، سی ای او
سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے سی ای او عمر سعید نے کراچی میں پری آئی پی او روڈ شو کے دوران سرمایہ کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ٹرک اور بسوں کے ریڈیل ٹائر (ٹی بی آر) بنانے اور برآمد کرنے والی اس کمپنی کی مالیت آئندہ آئی پی او کے لیے مقررہ قیمت کی حد کی بنیاد پر، اس وقت تقریباً 550 ملین ڈالر ہے۔
ایک بیان کے مطابق عمر سعید نے شرکاء کو بتایا کہ انتظامیہ توسیع، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے اگلے دو سالوں میں اسے ایک ارب ڈالر کی کمپنی بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔
اجلاس کے دوران شیئر کی گئی پیشکش کی تفصیلات کے مطابق آئی پی او کے لیے فی شیئر قیمت کی حد 14.25 روپے سے 19.95 روپے کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے رجسٹریشن کی مدت 13 مئی سے 15 مئی 2026 تک رہے گی جبکہ بک بلڈنگ کا عمل 18 اور 19 مئی 2026 کو طے پایا ہے۔ آئی پی او کا حجم 5.5 سے 7.8 ارب روپے کے درمیان متوقع ہے جو کمپنی کے ایشو کے بعد کے کل سرمائے کے 5 فیصد کے برابر ہے۔
اس آئی پی او کے انتظامات عارف حبیب لمیٹڈ سنبھال رہا ہے۔
ایس ایل ایم پاکستان میں آل اسٹیل ریڈیل ٹرک اور بس ٹائر بنانے والی کمپنی ہے جسے سروس گروپ اور چین کی کمپنی چاؤیانگ لانگ مارچ کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔
سروس انڈسٹریز لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنی، سروس گلوبل فٹ ویئر لمیٹڈ، ایس ایل ایم میں بالترتیب 32.09 فیصد اور 18.91 فیصد حصص (ایکویٹی اسٹیکس) کی مالک ہیں۔
روڈ شو کے دوران کمپنی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت اس وقت تقریباً 16 لاکھ ٹائر ہے جسے جولائی 2026 تک بڑھا کر 20 لاکھ ٹائر کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 25 فیصد اضافے کی خواہاں ہے۔
پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایس ایل ایم ٹائرز توانائی کے اخراجات کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے 7.5 میگاواٹ کا ونڈ ٹربائن منصوبہ بھی نصب کررہا ہے۔
روڈ شو کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے عمر سعید نے کہا کہ یہ پیشکش محض کیپیٹل مارکیٹ کی ایک لین دین سے بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ صنعتی ترقی، انفرااسٹرکچر کی توسیع اور برآمدی صلاحیتوں کی بدولت پاکستان کا ٹائر سیکٹر ایک تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
عمر سعید کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ آئی پی او کمپنی کی قدر تقریباً 550 ملین ڈالر لگارہا ہے لیکن ہمارا وژن یہ ہے کہ پیداواری حجم میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی، برآمدات اور مصنوعات میں تنوع کے ذریعے اگلے دو سالوں میں پاکستان کی پہلی بلین ڈالر ٹائر مینوفیکچرنگ کمپنی تیار کی جائے۔


Comments