امریکہ ایران کشیدگی اسٹاک ایکسچینج پر اثرانداز، 100 انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کی کمی
- بینچ مارک انڈیکس 1,778 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 171,115.82 پر بند
امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں جمعہ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں دن بھر شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ کاروبار کے آغاز کے فوراً بعد بینچ مارک انڈیکس شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گیا اور 170,393.12 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح تک گر گیا۔
تاہم حصص کی بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث سیشن کے پہلے ہاف کے دوران انڈیکس میں بتدریج بہتری آئی اور دوپہر تک یہ 172,000 کی سطح کی جانب بڑھنے لگا۔
کاروبار کے آخری گھنٹوں میں مارکیٹ کا رجحان ایک بار پھر منفی ہو گیا اور دوبارہ شروع ہونے والے فروخت کے دباؤ نے ابتدائی فوائد کو ختم کر دیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,778.45 پوائنٹس یا 1.03 فیصد کمی کے ساتھ 171,115.82 پر بند ہوا۔
بہتری کیپیٹل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گزشتہ روز مارکیٹ نے ریکارڈ بلندیوں کو چھوا تھا لیکن عالمی استحکام میں اچانک تبدیلی نے تمام اہم شعبوں میں حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت کو جنم دیا ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں مارکیٹ کی بندش تک کشیدگی میں کمی کا اشارہ نہیں دیتی ہیں تو ہمیں اگلے ہفتے کے آغاز پر مزید ٹیکنیکل فروخت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح عارف حبیب لمیٹڈ نے مارکیٹ کے بعد اپنے تبصرے میں کہا کہ جمعہ کو منافع کے حصول کے لیے حصص کی فروخت کا رجحان دیکھا گیا کیونکہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس میں امریکی افواج نے ایران میں میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والے مقامات اور دیگر فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔
ادارے نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جبکہ توقع ہے کہ ایران چند دنوں میں پاکستان کے ذریعے اس تجویز پر اپنا جواب بھیجے گا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا کیونکہ بہتر ہوتے ہوئے رجحانات کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص کی خریداری جاری رکھی، اگرچہ سیشن کے وسط میں منافع خوری کی وجہ سے مارکیٹ کے ابتدائی فوائد کا ایک بڑا حصہ زائل ہو گیا، اس کے باوجود بینچ 100 انڈیکس 1,189.52 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 172,894.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے باعث جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاکس میں معمولی کمی دیکھی گئی، حالانکہ ایشیا کی کئی مارکیٹیں اب بھی ہفتہ وار بنیادوں پر بہترین منافع کی جانب گامزن ہیں کیونکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی طلب نے چپ بنانے والی کمپنیوں کی قدر میں اضافہ کردیا ہے۔
بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 101.60 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کو فائرنگ کا تبادلہ ہوا، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ صورتحال اب معمول پر آگئی ہے جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی جو کم و بیش ایک ماہ سے برقرار ہے، اب بھی نافذ العمل ہے جس سے مذاکرات کے ذریعے حل کی امیدیں برقرار ہیں۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹیں جو چپ ساز کمپنیوں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ دیگر حصص میں اضافے کی بدولت بلندیوں کو چھو رہی تھیں، اپنی ریکارڈ سطح سے صرف معمولی نیچے آئیں۔
جاپان کے علاوہ ایشیائی حصص کے وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.8 فیصد کمی ہوئی اور اسی طرح جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی اتنی ہی گراوٹ دیکھی گئی۔ تاہم سام سنگ اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں تیزی کے باعث کوسپی اب بھی 12 فیصد سے زائد کے ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن ہے جو کہ 2008 کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار برتری ہے۔
اس کے علاوہ تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس اس ہفتے 6.9 فیصد اور جاپان کا نکی 4.5 فیصد اوپر رہا۔
دوسری جانب جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.70 پر بند ہوئی، جس سے روپے کی قدر میں 0.01 پیسے کا اضافہ ہوا۔
مارکیٹ میں مجموعی طور پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 986.97 ملین سے بڑھ کر 1,025.27 ملین شیئرز رہا، تاہم حصص کی مالیت 52.70 ارب روپے سے کم ہو کر 36.67 ارب روپے رہ گئی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ 144.42 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد ہیسکول پیٹرول 100.75 ملین اور سنرجیکو پی کے 84.11 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جمعہ کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 210 کے نرخ بڑھے، 243 میں کمی آئی جبکہ 34 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments