بجٹ 27–2026 کی تیاریاں : وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی انشورنس کمپنیوں اور میوچل فنڈز کے نمائندوں سے مشاورت
- بجٹ سے قبل ہونے والی ان ملاقاتوں کا محور ٹیکسیشن، بچتوں میں اضافہ اور ریگولیٹری اصلاحات تھیں
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی) اور میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم یو ایف اے پی) کے وفود سے الگ الگ مشاورتی ملاقاتیں کیں۔ مالی سال 27–2026 کے بجٹ سے قبل ہونے والی ان ملاقاتوں کا محور ٹیکسیشن، بچتوں میں اضافہ اور ریگولیٹری اصلاحات تھیں، تاکہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کو استحکام بخشا جا سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق آئی اے پی کے چیئرمین شعیب جاوید حسین کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بجٹ مشاورت میں انشورنس انڈسٹری کی شمولیت کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی اقدامات کو معاشی ترجیحات کے مطابق رکھنے اور طویل مدتی مالیاتی استحکام کے لیے اہم شعبوں کے ساتھ مسلسل مکالمہ ضروری ہے۔
وفد نے ٹیکسیشن اور ریگولیٹری معاملات پر مبنی تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے وفاقی اور صوبائی لیویز کے درمیان تعلق اور انشورنس سیکٹر پر ان کے اثرات سمیت موجودہ ٹیکس ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے شعبہ جاتی ترقی کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں تسلسل اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ بچتوں کے فروغ اور انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے پالیسی ہولڈرز کے لیے ٹیکس مراعات کی ممکنہ بحالی کی تجویز بھی دی گئی، بالخصوص تنخواہ دار طبقے کی شمولیت کو کلیدی قرار دیا گیا۔
بعد ازاں وزیر خزانہ نے میوچل فنڈز ایسوسی ایشن (ایم یو ایف اے پی) کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین شہزاد ڈاڈا کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے بچتوں کو متحرک کرنے اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں میوچل فنڈز کے کردار کا اعتراف کیا۔
ملاقات میں بچتوں کے منظر نامے اور سرمایہ کاروں کے لیے مالیاتی آلات کی کارکردگی بڑھانے پر غور کیا گیا۔ میوفاپ کے وفد نے ریٹیل سرمایہ کاری بڑھانے اور سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء نے نیشنل سیونگز اسکیموں (این ایس ایس) کو مارکیٹ کے مطابق ڈھالنے کی تجویز بھی دی، تاکہ تمام بچت مصنوعات کے لیے یکساں مواقع میسر آسکیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دونوں وفود کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ بجٹ کی تیاری کے دوران ان کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے مالیاتی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔


Comments