BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.49%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.1%)
BIPL 28.65 Increased By ▲ 0.62 (2.21%)
BOP 36.90 Increased By ▲ 0.13 (0.35%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.66 Increased By ▲ 0.73 (3.66%)
DGKC 227.20 Increased By ▲ 0.27 (0.12%)
FABL 101.75 Increased By ▲ 1.57 (1.57%)
FCCL 58.70 Increased By ▲ 0.09 (0.15%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 26.40 Increased By ▲ 1.20 (4.76%)
HBL 306.00 Increased By ▲ 0.36 (0.12%)
HUBC 233.72 Increased By ▲ 1.17 (0.5%)
HUMNL 11.31 Decreased By ▼ -0.11 (-0.96%)
KEL 8.26 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
LOTCHEM 29.46 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
MLCF 107.69 Decreased By ▼ -0.60 (-0.55%)
OGDC 345.69 Increased By ▲ 6.59 (1.94%)
PAEL 45.54 Increased By ▲ 0.19 (0.42%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.64 Increased By ▲ 1.07 (0.38%)
PPL 248.61 Increased By ▲ 2.66 (1.08%)
PRL 36.30 Increased By ▲ 0.22 (0.61%)
SNGP 119.00 Increased By ▲ 0.30 (0.25%)
SSGC 31.43 Decreased By ▼ -0.24 (-0.76%)
TELE 9.23 Decreased By ▼ -0.04 (-0.43%)
TPLP 11.60 Increased By ▲ 0.37 (3.29%)
TRG 67.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.65%)
UNITY 10.91 Decreased By ▼ -0.10 (-0.91%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کھیل

سری لنکن حکومت نے کرکٹ بورڈ کا کنٹرول عارضی طور پر سنبھال لیا

  • تمام انتظامی امور وزارتِ کھیل کے سپرد، سابق بینکر ایرن وکرما رتنے نئے سربراہ مقرر
شائع اپ ڈیٹ

سری لنکن حکومت نے ملک کے کرکٹ بورڈ (ایس ایل سی) کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے اصلاحات کے لیے نو رکنی عبوری انتظامیہ مقرر کر دی ہے۔ سری لنکا کرکٹ ملک کا امیر ترین کھیلوں کا ادارہ ہے لیکن طویل عرصے سے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کی زد میں ہے۔

یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2023-2024 میں بورڈ کے معاملات میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے سری لنکا کی رکنیت دو ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔

وزارتِ کھیل کے مطابق تمام انتظامی امور عارضی طور پر وزارت کے سپرد کر دیے گئے ہیں اور سابق بینکر و سیاستدان ایرن وکرما رتنے کو بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ عبوری کمیٹی کے دیگر نمایاں ارکان میں سابق کپتان کمار سنگاکارا، سداتھ ویٹیمونی اور روشن ماہنامہ شامل ہیں۔

حکومتی مداخلت کے بعد چار بار صدر رہنے والے شمی سلوا نے اپنی پوری کمیٹی سمیت استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سری لنکا فروری مارچ میں بھارت کے ساتھ مشترکہ میزبانی کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد باہر ہو گیا تھا۔ اے ایف پی نے اس معاملے پر آئی سی سی سے موقف طلب کر لیا ہے۔

Comments

200 حروف