آئندہ مالی سال کے غیر حقیقی بجٹ اہداف
- موجودہ حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ اہداف ممکنہ بدترین حالات کو مدنظر رکھ کر مقرر کیے جائیں
وفاقی سطح پر بجٹ سازی کا عمل وزارتِ خزانہ میں جاری ہے۔ بجٹ جون 2026 کے پہلے نصف میں پیش کیا جائے گا۔
اس وقت پاکستان میں مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی اور 2026-27 کے دوران اہم معاشی اشاریوں کی سمت کے بارے میں خاصی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی فراہمی میں خلل اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔
اس غیر یقینی صورتحال کا سب سے بڑا اظہار تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں یہ بڑھ کر 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ جنگ بندی کے بعد بھی یہ اس وقت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل پر برقرار ہے۔
تشویش صرف قیمت میں 50 فیصد اضافے کی نہیں بلکہ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
مارچ میں ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمد میں پہلے ہی شدید کمی آ چکی ہے، جس کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح آنے والے خریف سیزن میں کھاد کی دستیابی بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ان حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ اہداف ممکنہ بدترین حالات کو مدنظر رکھ کر مقرر کیے جائیں۔ مثال کے طور پر موٹر اسپرٹ پر پیٹرولیم لیوی میں کمی کے باعث سالانہ 400 ارب روپے سے زائد کے ریونیو نقصان کا امکان ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری پروگرام کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں 2026-27 کے معاشی تخمینوں اور آئندہ جائزوں کے لیے مقداری اہداف طے کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی حالیہ عالمی معاشی منظرنامہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت 2026-27 میں 3.6 فیصد شرح نمو حاصل کرے گی جبکہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہے گی۔
اس سے قبل دوسرے جائزے کے بعد 2026-27 کے لیے جی ڈی پی شرح نمو 4.1 فیصد اور مہنگائی 7 فیصد متوقع تھی۔ یعنی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ جیسے بڑے منفی جھٹکے کے باوجود آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت پر صرف 0.5 فیصد شرح نمو میں کمی اور 0.2 فیصد مہنگائی میں اضافے کا اندازہ لگا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کی یہ نسبتاً پُرامید پیش گوئی وزارتِ خزانہ کے لیے بھی قابل قبول معلوم ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کے اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے نزدیک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باوجود معیشت کی رفتار پر بہت کم منفی اثر پڑے گا۔
بجٹ اہداف میں سب سے اہم ہدف ایف بی آر محصولات کا ہے۔ بظاہر 2026-27 کے لیے ایف بی آر ریونیو کا ہدف 15,564 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ دوسرے جائزے کے بعد یہ ہدف 15,712 ارب روپے تھا۔ یعنی صرف 148 ارب روپے یا تقریباً ایک فیصد کمی کی گئی ہے۔
مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں پہلے ہی 600 ارب روپے سے زائد کا شارٹ فال ریکارڈ کرچکا ہے۔ مارچ میں محصولات میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس لیے امکان ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ شارٹ فال 900 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر محصولات کا مجموعی حجم تقریباً 13,080 ارب روپے رہے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب 2026-27 کے لیے ایف بی آر محصولات کا ہدف 15,564 ارب روپے رکھا گیا ہے تو متوقع شرحِ نمو 19 فیصد بنتی ہے۔ اس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں تقریباً 1.1 فیصد جی ڈی پی کے برابر اضافہ ہوگا۔
گیس کی قلت کے باعث پہلے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ سامنے آ چکی ہے اور آئندہ فصل کے لیے کھاد کی بڑی کمی کا بھی خدشہ ہے، اس لیے اب زیادہ امکان ہے کہ معیشت کی شرحِ نمو 2.5 فیصد سے بھی کم رہے گی، جبکہ مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسوں (ڈبل ڈیجٹ) کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ اپریل کے وسط میں حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ 12 فیصد سے زائد اضافہ پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ 2026-27 میں ایف بی آر محصولات میں 19 فیصد اضافے کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ لہٰذا تیسرے جائزے کو حتمی شکل دینے سے قبل اس ہدف کو تقریباً 750 ارب روپے کم کیا جانا چاہیے۔ اس طرح متوقع شرحِ نمو 13.2 فیصد رہ جائے گی، جو پھر بھی 2025-26 کی ممکنہ شرح نمو سے زیادہ ہے۔
بظاہر دیگر بجٹ اہداف بھی خاصے بلند ہیں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے منفی اثرات کے حجم سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اہداف بلند محسوس ہوتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ 2026-27 میں پرائمری بجٹ سرپلس 2,812 ارب روپے ہوگا، جو متوقع جی ڈی پی کا 2 فیصد بنتا ہے۔ یہ نہ صرف ایف بی آر محصولات پر بلکہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت پر بھی منحصر ہوگا۔ اگر مہنگائی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافے کے باعث شرح سود بڑھتی ہے تو یہ لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر بجٹ خسارہ تقریباً جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کے قریب رکھا گیا ہے۔ تاہم 2026-27 میں معیشت کی متوقع صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف بھی کافی بلند معلوم ہوتا ہے۔ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ ہدف جی ڈی پی کے تقریباً 4.5 فیصد کے قریب ہونا چاہیے تھا۔ اس زیادہ خسارے کی وجہ اسٹیٹ بینک کے منافع میں ممکنہ بڑی کمی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 1,650 ارب روپے کے کیش سرپلس کے حصول میں کمی کا خدشہ ہے۔
مجموعی طور پر، 2026-27 کے لیے بجٹ اور دیگر اہداف مقرر کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف نے بظاہر پاکستان کی معیشت پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کا اندازہ لگانے میں ضرورت سے زیادہ پُرامیدی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments