مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.23 ڈالر یا 1.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 106.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے باعث جمعہ کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کمانڈوز کے قبضے کی ویڈیو جاری کرنے اور تہران کی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے مخالف اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.23 ڈالر یا 1.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 106.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 1.07 ڈالر یا 1.12 فیصد اضافے کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اس سے ایک روز قبل بھی دونوں بینچ مارک معاہدوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا تھا، جبکہ تہران میں فضائی سرگرمیوں اور ایران کے اندر سخت گیر اور اعتدال پسند حلقوں کے درمیان کشمکش کی خبروں کے بعد قیمتوں میں 5 ڈالر فی بیرل تک اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کے دوران ممکنہ طور پر اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کیا ہے، تاہم امریکی فوج ایک ہی دن میں ان صلاحیتوں کو ختم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک بہترین معاہدہ چاہتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن مقرر نہیں کریں گے۔
ادھر ہیٹونگ فیوچرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی دراصل ممکنہ جنگ کی تیاری معلوم ہوتی ہے۔ اگر اپریل کے اختتام تک امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں سال کی نئی بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کارروائی اس کی اس اہم گزرگاہ پر گرفت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہاں طویل تعطل پیدا ہوا تو مئی کے آخر یا جون کے آغاز تک عالمی ذخائر میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس سے قبل اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دے چکا ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔


Comments