ایک سنگین حقیقت جس نے پہلے کبھی اس طرح سر نہیں اٹھایا، وہ ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان کی شدید کمزوری ہے۔ اس تنازع نے مکمل طور پر بے نقاب کردیا ہے کہ ملک اپنے خلیجی شراکت داروں سے فوسل فیول (تیل و گیس) کی درآمدات پر کس قدر گہرا انحصار کرتا ہے جن کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اب ایران کی جوابی حکمتِ عملی کے نشانے پر ہے۔ سپلائی میں تعطل، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات اب دور دراز کے خدشات کے بجائے اچانک فوری معاشی خطرات بن چکے ہیں۔
عالمی سطح پر بجلی کی پیداوار، نقل و حمل اور دیگر تجارتی و صنعتی استعمال کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی تحریک ماحولیاتی بحران کے تقاضوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کیلئے اس قسم کے اقدام کی ضرورت اس سے بھی کہیں زیادہ فوری اور اہم ہے۔ اب یہ معاملہ محض کاربن کے اخراج میں کمی تک محدود نہیں رہا، اگرچہ اس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ بلکہ اب یہ یکساں طور پر ملک کی معاشی استحکام کو مضبوط بنانے اور اسے بیرونی جھٹکوں اور جغرافیائی سیاسی خلفشار سے محفوظ رکھنے کے بارے میں بھی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا تناسب بدستور پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کے زیرِ اثر ہے جو بجلی کی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کے شعبے دونوں کیلئے بنیاد کا کام کرتے ہیں۔ آئی پی پیز اور ایل این جی سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کی ذمہ داریوں نے برسوں سے ملک کو مہنگے وعدوں میں جکڑ رکھا ہے جن میں سے زیادہ تر ٹیک اور پے کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں، یعنی معاہدے کے تحت سپلائرز کو ادائیگی کرنا لازم ہے، قطع نظر اس کے کہ اصل کھپت کتنی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی ساختی سختی کی صورت میں نکلا ہے جس نے گردشی قرضوں کے بحران کو ہوا دی، کارکردگی کو متاثر کیا اور نان فوسل فیول پر مبنی توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کے لیے ادارہ جاتی حوصلہ شکنی کو تقویت دی ہے۔
نان سی پیک آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی خریداری کے بعض انتہائی بوجھل معاہدوں پر نظرثانی کی حالیہ کوششیں درست سمت میں ایک قدم تو ہیں لیکن یہ بامعنی اور نظامی ریلیف فراہم کرنے کیلئے ناکافی ہیں۔ ایل این جی کے معاہدے، خاص طور پر وہ جو عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے جڑے ہوئے ہیں، ان میں بھی نظرثانی کی مزید گنجائش موجود ہے۔ ایک جامع حکمتِ عملی کے بغیر یہ واجبات اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔ درحقیقت یہ ایک ایسے نظامی تعطل کی شکل اختیار کرچکے ہیں جو بجلی کے شعبے میں سولر اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو وسعت دینے کے خلاف بیوروکریسی کی مزاحمت کی وضاحت کرتا ہے۔ چنانچہ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ سی پیک سے وابستہ آئی پی پیز اور قطر میں ہمارے ایل این جی فراہم کنندگان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فیصلہ کن مذاکرات کیے جائیں تاکہ کسی ایسے تصفیے تک پہنچا جا سکے جو ضروری منتقلی کے لیے مالی اور آپریشنل گنجائش پیدا کرے۔ موجودہ ڈگر پر چلتے رہنا اب ممکن نہیں رہا، خاص طور پر اس لیے کہ فوسل فیول کی درآمدات پاکستان کے امپورٹ بل کا ایک بڑا حصہ ہیں، جو ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ ڈالتی ہیں اور غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو ختم کر دیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہر بیرونی جھٹکا ملکی کمزوری میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔
اسی طرح ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تبدیلی لانا بھی انتہائی اہم ہے، جو پیٹرولیم کی کھپت کے بڑے حصے کا ذمہ دار ہے۔ عوامی نقل و حمل، بالخصوص بسوں اور ریلوے کی برقی منتقلی کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔ مال برداری کو بھی بتدریج سڑکوں سے ریل پر منتقل کرنا ہوگا تاکہ ڈیزل سے چلنے والے ٹرکوں اور ٹینکروں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اگرچہ ریلوے نیٹ ورک کو بجلی پر منتقل کرنا ایک خطیر سرمایہ کاری کا طلب گار منصوبہ ہے لیکن یہ طویل مدتی بنیادوں پر بہتر کارکردگی اور تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس منتقلی میں ظاہر ہے وقت لگے گا لیکن تاخیر صرف اس پر آنے والی لاگت میں اضافے کا باعث بنے گی۔
قومی توانائی کے تناسب میں شمسی، ونڈ اور جوہری توانائی کو بھی کہیں زیادہ مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ سولر پہلے ہی چھوٹے پیمانے اور غیر مرکزی تنصیبات، جیسے کہ گھروں کی چھتوں پر اپنی افادیت ثابت کرچکا ہے۔ تاہم اس کی توسیع میں پرانے معاہدے اور گرڈ کی حدود اب بھی رکاوٹ ہیں۔ مون سون کے دوران کم یا غیر مستقل پیداوار کو بھی اکثر ایک محدودیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن عالمی سطح پر بیٹری اسٹوریج کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث اب اس صورتحال پر قابو پانا تیزی سے آسان ہوتا جا رہا ہے۔ونڈ اور جوہری توانائی، اگرچہ خطیر سرمایہ کاری اور طویل مدت طلب کام ہیں لیکن یہ استحکام اور بڑے پیمانے پر پیداوار فراہم کرتے ہیں، لہٰذا انہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس وقت ایک مربوط اور طویل مدتی ’انرجی روڈ میپ‘ کی ضرورت ہے جو ان تمام ذرائع کو یکجا کرے، مراعات کو ہم آہنگ بنائے اور موجودہ انتظامات میں موجود ساختی رکاوٹوں کو دور کرے۔ حالیہ جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل سے حاصل ہونے والا سبق بالکل واضح ہے: توانائی کا تحفظ درآمدی فوسل فیول پر منحصر نہیں رہ سکتا اور معاشی استحکام اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے قابلِ تجدید توانائی اور برقی منتقلی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔


Comments