امن مذاکرات، ڈالر مسلسل دوسرے ہفتے کمی کی جانب گامزن
- ایشیا کی کرنسی مارکیٹ میں زیادہ تر کرنسیاں محدود دائرے میں رہیں
امریکی ڈالر جمعہ کے روز مسلسل دوسرے ہفتے بھی کمی کی طرف گامزن رہا، جس کی بڑی وجہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی اور ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کے امکانات ہیں۔ ان پیش رفتوں نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری پوزیشنز سے نکلنے پر مجبور کیا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات کو نافذ ہوئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلا اجلاس ہفتے کے اختتام پر ہو سکتا ہے۔ اس امید نے عالمی منڈی میں اعتماد بڑھایا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے مکمل امن معاہدے کے بجائے ایک عارضی سمجھوتے کی طرف پیش رفت کی ہے تاکہ دوبارہ کشیدگی سے بچا جا سکے، جبکہ جوہری مسئلہ اب بھی بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایشیا کی کرنسی مارکیٹ میں زیادہ تر کرنسیاں محدود دائرے میں رہیں۔ یورو 1.1783 ڈالر پر مستحکم رہا اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3526 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔
ڈالر انڈیکس 98.212 پر تقریباً بغیر تبدیلی کے رہا اور یہ بھی مسلسل دوسرے ہفتے کمی کی طرف ہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.7163 ڈالر کے قریب رہا جبکہ جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 159.26 پر معمولی اضافہ دکھا سکا۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ اس وقت کسی نئے بڑے محرک کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ پہلے ہی جنگ بندی سے متعلق مثبت توقعات قیمتوں میں شامل ہو چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود کے حوالے سے محتاط رویہ بھی برقرار ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں سے مہنگائی کے خدشات موجود ہیں۔
امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ بھی مستحکم رہی، جبکہ روزگار کے تازہ اعداد و شمار نے امریکی لیبر مارکیٹ کے مستحکم رہنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے فیڈ کو شرحِ سود برقرار رکھنے کی گنجائش مل رہی ہے۔


Comments