BR100 Increased By (1.33%)
BR30 Increased By (1.31%)
KSE100 Increased By (1.3%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 57.98 Increased By ▲ 0.78 (1.36%)
BIPL 27.39 Increased By ▲ 0.50 (1.86%)
BOP 34.43 Increased By ▲ 0.74 (2.2%)
CNERGY 10.91 Increased By ▲ 0.30 (2.83%)
DFML 18.32 Increased By ▲ 0.27 (1.5%)
DGKC 212.23 Increased By ▲ 2.33 (1.11%)
FABL 101.10 Increased By ▲ 2.15 (2.17%)
FCCL 54.81 Increased By ▲ 1.07 (1.99%)
FFL 16.79 Increased By ▲ 0.33 (2%)
GGL 24.46 Increased By ▲ 0.64 (2.69%)
HBL 305.00 Increased By ▲ 2.58 (0.85%)
HUBC 221.60 Increased By ▲ 2.66 (1.21%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.08 (0.76%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.17 (2.34%)
LOTCHEM 29.97 Increased By ▲ 0.32 (1.08%)
MLCF 96.90 Increased By ▲ 0.54 (0.56%)
OGDC 321.70 Increased By ▲ 3.48 (1.09%)
PAEL 43.25 Increased By ▲ 1.48 (3.54%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.34 (2.02%)
PIOC 299.00 Increased By ▲ 2.38 (0.8%)
PPL 223.60 Increased By ▲ 3.43 (1.56%)
PRL 52.06 Increased By ▲ 3.01 (6.14%)
SNGP 108.15 Increased By ▲ 2.02 (1.9%)
SSGC 29.65 Increased By ▲ 0.51 (1.75%)
TELE 8.95 Increased By ▲ 0.13 (1.47%)
TPLP 13.06 Increased By ▲ 0.55 (4.4%)
TRG 60.63 Increased By ▲ 0.41 (0.68%)
UNITY 10.57 Increased By ▲ 0.55 (5.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

پاکستان کی سفارتکاری میں تیزی، امریکہ ایران کے درمیان جوہری معاملے پر بڑے بریک تھرو کا امکان

  • بدھ کے روز یہ امید اس وقت مزید بڑھی جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد ایران پہنچا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستانی حکام ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی توقع کر رہے ہیں، الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے، جبکہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے جس میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں۔

بدھ کے روز یہ امید اس وقت مزید بڑھی جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد ایران پہنچا، جس کی قیادت چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق اس وفد کا مقصد واشنگٹن کا ایک اسٹریٹجک پیغام ایرانی قیادت تک پہنچانا ہے۔

آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، جنہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی اور مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے مرحلے کے باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بھی ہے، جبکہ پاکستان ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔

الجزیرہ سے وابستہ صحافی اسامہ بن جاوید، جو ایران-امریکہ مذاکرات کی کوریج کر رہے ہیں، نے کہا کہ پاکستانی حکام جوہری معاملے پر بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کر رہے ہیں، اور فریقین کے درمیان اسٹریٹجک رابطے مسلسل جاری ہیں۔

تنازع کا مرکزی نکتہ ایران کی یورینیم افزودگی کی معطلی کی مدت اور اس کے پاس موجود 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پانچ سال سے 20 سال تک افزودگی روکنے کے معاملے پر تعطل کا شکار ہیں، تاہم اس کے درمیان ایک ممکنہ حل موجود ہے۔

مزید یہ بھی زیر بحث ہے کہ ایران اپنے 440 کلوگرام افزودہ مواد کے ساتھ کیا کرے گا، جس کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں، جیسے اسے کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنا یا اس کی سطح کم کر کے قدرتی یورینیم یا 3 فیصد افزودگی تک لانا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کیلئے امید ظاہر کی ہے، تاہم تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے اگر وہ مزاحمت جاری رکھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ ملکر شروع کی گئی جنگ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ اس دوران بحری راستوں کی بندش اور آبنائے ہرمز سے ٹریفک میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔

Comments

200 حروف