BR100 Increased By (0.1%)
BR30 Increased By (0.16%)
KSE100 Increased By (0.17%)
KSE30 Increased By (0.14%)
BAFL 56.00 Increased By ▲ 0.23 (0.41%)
BIPL 24.70 Increased By ▲ 0.37 (1.52%)
BOP 28.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 12.82 Increased By ▲ 0.02 (0.16%)
DFML 15.92 Decreased By ▼ -0.16 (-1%)
DGKC 181.47 Decreased By ▼ -0.93 (-0.51%)
FABL 91.99 Increased By ▲ 0.59 (0.65%)
FCCL 51.59 Decreased By ▼ -0.40 (-0.77%)
FFL 14.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 20.26 Increased By ▲ 0.16 (0.8%)
HBL 291.90 Increased By ▲ 2.46 (0.85%)
HUBC 193.65 Increased By ▲ 0.41 (0.21%)
HUMNL 9.32 Increased By ▲ 0.11 (1.19%)
KEL 5.92 Increased By ▲ 0.01 (0.17%)
LOTCHEM 25.72 Decreased By ▼ -0.10 (-0.39%)
MLCF 89.86 Decreased By ▼ -0.59 (-0.65%)
OGDC 302.85 Increased By ▲ 0.60 (0.2%)
PAEL 33.83 Increased By ▲ 0.10 (0.3%)
PIBTL 13.75 Increased By ▲ 0.04 (0.29%)
PIOC 231.90 Increased By ▲ 0.82 (0.35%)
PPL 220.00 Increased By ▲ 0.75 (0.34%)
PRL 104.00 Increased By ▲ 0.24 (0.23%)
SNGP 90.62 Increased By ▲ 0.49 (0.54%)
SSGC 23.15 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
TELE 7.16 Decreased By ▼ -0.07 (-0.97%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.03 (0.25%)
TRG 55.80 Increased By ▲ 0.33 (0.59%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 0.98 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

سرپلس پاور پیکیج سے بجلی کی طلب میں اضافہ، کاروباری لاگت میں بڑی گراوٹ

  • تین ماہ کے دوران صنعتی و زرعی شعبوں نے اضافی 2,164 گیگا واٹ آور بجلی استعمال کی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت کے سرپلس پاور پیکیج کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں صرف تین ماہ کے دوران دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک صنعت اور زراعت کے شعبوں نے اضافی 2,164 گیگا واٹ آور بجلی استعمال کی ہے۔

جمعہ کو جاری کیے گئے ایک سرکاری اعلامیے میں وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ صرف صنعتوں نے مجموعی طور پر 19.6 ارب روپے کی بچت کی جب کہ زرعی صارفین نے 1.14 ارب روپے بچائے جس کے نتیجے میں مجموعی مالی ریلیف 20.83 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق صنعتوں کے مختلف زمروں میں سے بی تھری صارفین نے سب سے زیادہ 8.76 ارب روپے کی بچت کی جس کے بعد بی ٹو نے 5.34 ارب روپے، بی فور نے 4.02 ارب روپے اور بی ون صارفین نے 1.48 ارب روپے کی بچت کی۔

دسمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی اقدام کے تحت ملک کی صنعتی اور زرعی شعبے کو ریلیف اور مدد فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس سرپلس الیکٹرسٹی پیکیج کو متعارف کرایا گیا تھا جس میں اضافی استعمال پر 22.98 روپے فی یونٹ کی کم ترین شرح مقرر کی گئی تھی۔

یہ ان شعبوں کو اس مدت کے دوران فروخت کیے گئے کل یونٹس کا 23 فیصد بنتا ہے۔

یہ پیکیج ایک ہدفی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تاکہ بجلی کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکے، دستیاب پیداوار کی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے اور صنعتی و زرعی صارفین کو طویل مدت کے لیے مالی ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

دریں اثنا وزارت نے بتایا کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا جس میں بی فور بڑی صنعتوں کے 67 فیصد (123 میں سے 83)، بی تھری کے 52 فیصد (3,470 میں سے 1,812)، بی ٹو کے 48 فیصد (69,124 میں سے 33,449) اور بی ون صنعتوں کے 43 فیصد (229,282 میں سے 98,718) اس پیکیج سے مستفید ہوئے جب کہ 34 فیصد زرعی صارفین (242,451 میں سے 82,334) نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس پیکیج کے تحت بجلی کے استعمال کے تناسب کے لحاظ سے بی ون صنعتیں 27 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے بعد بی فور کا حصہ 25 فیصد، بی ٹو کا 24 فیصد، بی تھری کا 22 فیصد اور زراعت کا حصہ 21 فیصد رہا۔

کامیابی کے سب سے حوصلہ افزاء اثرات جنوری 2026 میں 12 فیصد اور فروری 2026 میں 11 فیصد سالانہ ترقی کی صورت میں سامنے آئے جو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس پیکیج نے بجلی کی طلب میں اضافہ کیا ہے اور صنعتوں کو مہنگی ذاتی بجلی کی پیداوار کے بجائے گرڈ کی سستی بجلی پر انحصار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

Comments

Comments are closed.