BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
پاکستان

فلسطینیوں کیخلاف سزائے موت کا اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی شدید مذمت

  • اسرائیل کے بڑھتے امتیازی اور جارحانہ اقدامات ایسے نظام کو مضبوط کررہے ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ہے ، دفترخارجہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے اپنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایسے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی جو مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے اور جس کا عملی اطلاق فلسطینیوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جومقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بلکہ ان کے وجود تک سے انکار کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے امتیازی اور جارحانہ اقدامات ایک ایسے نظام کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ہے جب کہ یہ طرز عمل فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق اور ان کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔

اس اقدام کے ذریعے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے کیا گیا ایک بڑا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف ان اسرائیلیوں پر لاگو ہوگا جو ایسے قتل کے مرتکب ہوں گے جن کے حملوں کا مقصد اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے لیے تو سزائے موت کا باعث بنے گا لیکن اسی طرح کے جرائم کرنے والے یہودی اسرائیلیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

اس قانون سازی نے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا ہے جو پہلے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں اپنی جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ قانون سازی خصوصاً اس کے فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی اطلاق کے تناظر میں ایک خطرناک شدت اختیار کرنے کے مترادف ہے، ایسے اقدامات سے تناؤ میں مزید اضافہ اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قابل اعتماد اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے خطرات سے خبردار کیا جن میں تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، فاقہ کشی اور بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کے ایک تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسلی امتیاز پر مبنی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی اپنی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض طاقت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو زمینی صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے استحکام کو برقرار رکھنے اور مزید بگاڑ کو روکنے کےلئے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔

وزرائے خارجہ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ قابض قوت (اسرائیل) کی جانب سے عائد کردہ ان اقدامات سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے جو زمینی سطح پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور استحکام برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.