BR100 Decreased By (-0.97%)
BR30 Decreased By (-1.55%)
KSE100 Decreased By (-0.89%)
KSE30 Decreased By (-0.94%)
BAFL 57.16 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 27.08 Decreased By ▼ -0.39 (-1.42%)
BOP 33.35 Decreased By ▼ -0.60 (-1.77%)
CNERGY 10.76 Decreased By ▼ -0.19 (-1.74%)
DFML 18.01 Decreased By ▼ -0.19 (-1.04%)
DGKC 207.89 Decreased By ▼ -5.44 (-2.55%)
FABL 100.29 Decreased By ▼ -0.67 (-0.66%)
FCCL 54.68 Decreased By ▼ -1.17 (-2.09%)
FFL 16.07 Decreased By ▼ -0.14 (-0.86%)
GGL 24.48 Decreased By ▼ -0.60 (-2.39%)
HBL 303.25 Decreased By ▼ -3.59 (-1.17%)
HUBC 219.33 Decreased By ▼ -3.68 (-1.65%)
HUMNL 10.49 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 7.29 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.32 Decreased By ▼ -0.38 (-1.37%)
MLCF 95.67 Decreased By ▼ -1.24 (-1.28%)
OGDC 317.05 Decreased By ▼ -3.95 (-1.23%)
PAEL 42.34 Decreased By ▼ -0.85 (-1.97%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 276.22 Decreased By ▼ -11.36 (-3.95%)
PPL 218.15 Decreased By ▼ -4.69 (-2.1%)
PRL 57.37 Decreased By ▼ -1.78 (-3.01%)
SNGP 101.08 Decreased By ▼ -2.78 (-2.68%)
SSGC 25.57 Decreased By ▼ -0.39 (-1.5%)
TELE 8.32 Decreased By ▼ -0.24 (-2.8%)
TPLP 12.79 Increased By ▲ 0.03 (0.24%)
TRG 61.00 Increased By ▲ 0.61 (1.01%)
UNITY 10.06 Decreased By ▼ -0.14 (-1.37%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.02 (-1.64%)
مارکٹس

ایران کی امریکا سے مذاکرات کی تردید کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر 4 ڈالر یا 4 فیصد اضافے کے ساتھ 103.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

خلیج میں جاری جنگ اور رسد کے خدشات کے باعث منگل کی ابتدائی تجارت میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی۔ یہ تردید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جلد کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر 4 ڈالر یا 4 فیصد اضافے کے ساتھ 103.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 3.49 ڈالر یا 4 فیصد بڑھ کر 91.62 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس سے ایک روز قبل پیر کو تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی، جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں پر ممکنہ حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے اور کہا کہ امریکہ اور ایرانی حکام کے درمیان مفید بات چیت ہوئی ہے جس میں کئی اہم نکات پر اتفاق سامنے آیا ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فیصلے سے وقتی طور پر جنگ کے خطرات کی وجہ سے قیمتوں میں شامل اضافی پریمیم کم ہو گیا، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے کیونکہ خلیج فارس میں کشیدگی برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میزائل حملے وقتی طور پر رک گئے ہیں لیکن آبنائے ہرمز اب بھی مکمل طور پر محفوظ تجارتی راستہ نہیں بنی۔

موجودہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ تاہم پیر کو بھارت جانے والے دو آئل ٹینکر اس اہم بحری راستے سے گزرنے میں کامیاب رہے۔

ادھر ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی اہداف کے خلاف نئے حملے شروع کیے ہیں اور ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اپریل کے آخر تک مؤثر طور پر بند رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

جنگ کے باعث خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی شہر اصفہان میں گیس کمپنی کے دفتر اور پریشر ریڈکشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خرم شہر میں بجلی گھر کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن بھی متاثر ہوئی۔ عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایشیائی اور یورپی حکومتوں کے ساتھ اسٹریٹیجک ذخائر کے مزید اجرا پر مشاورت جاری ہے۔

Comments

200 حروف