BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.51%)
KSE100 Decreased By (-0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.07%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.53%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.97 Decreased By ▼ -1.48 (-0.77%)
FABL 94.40 Increased By ▲ 0.26 (0.28%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.90 Increased By ▲ 0.80 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.44 Decreased By ▼ -1.29 (-0.41%)
PAEL 35.45 Decreased By ▼ -0.18 (-0.51%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.60 Decreased By ▼ -3.31 (-1.46%)
PRL 92.40 Decreased By ▼ -0.62 (-0.67%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.38%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.72 Decreased By ▼ -0.25 (-1.93%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

سندھ میں تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار

  • سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے ورثاء کو 7 لاکھ روپے ملیں گے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو لازمی قرار دے دیا ہے، جسے انہوں نے سڑک حادثات کے متاثرین کے تحفظ اور روڈ سیفٹی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔

اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سندھ میں کوئی بھی گاڑی اس وقت تک رجسٹر نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کا ٹوکن ٹیکس قبول کیا جائے گا جب تک اس کی تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسی موجود نہ ہو۔ یہ فیصلہ سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے بعد کیا گیا ہے، جس میں انشورنس کوریج کو لازمی بنانے کے لیے ایک نئی دفعہ شامل کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس اقدام کے ساتھ ’نو فالٹ کمپنسیشن سسٹم‘ کی بھی منظوری دی، جس کے تحت سڑک حادثات کے متاثرین یا ان کے خاندانوں کو مالی امداد ملے گی، قطع نظر اس کے کہ حادثہ کس کی غلطی سے ہوا۔

نئے فریم ورک کے مطابق سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے ورثاء کو 7 لاکھ روپے، جبکہ مستقل معذوری کا شکار ہونے والے افراد کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو مشکل وقت میں مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ نے قانون کے مؤثر نفاذ اور شفافیت کے لیے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم بھی لانچ کیا ہے اور محکمہ ایکسائز کو اس پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی وزیر برائے ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ نے واضح کیا کہ انشورنس کے بغیر گاڑیوں کی رجسٹریشن یا ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی۔ سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت کے مطابق جعلی دستاویزات روکنے کے لیے انشورنس پالیسیوں کی ڈیجیٹل تصدیق کو ’سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کے لیے بھی انشورنس لازمی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے اسے عوامی خدمت اور روڈ سیفٹی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا جو حادثات کی صورت میں مالی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.