اسلامک بینکنگ کا فنانسنگ شیئر بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا، اسٹیٹ بینک
- مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے مجموعی بینکنگ انڈسٹری میں اسلامی بینکاری کے اثاثوں کا حصہ 22.9 فیصد رہا
پاکستان کا اسلامک بینکنگ سیکٹر گزشتہ سال 2025 کے دوران اپنی مضبوط ترقی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جس سے ملک کے مالیاتی نظام میں اس کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ اس وقت مجموعی بینکنگ اثاثوں میں اسلامی بینکاری کا حصہ 23 فیصد جبکہ فنانسنگ میں اس کا حصہ 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اسلامک بینکنگ بلٹن کے مطابق پاکستان میں اسلامی بینکاری کے شعبے نے گزشتہ کیلنڈر سال کے دوران اپنی بھرپور ترقی کا سفر جاری رکھا، جس سے مالیاتی نظام میں اس کا کردار مزید مستحکم ہوا ہے۔
مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے مجموعی بینکنگ انڈسٹری میں اسلامی بینکاری کے اثاثوں کا حصہ 22.9 فیصد رہا جبکہ ڈپازٹس (امانتوں) کا حصہ اس سے بھی زیادہ یعنی 27.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی فنانسنگ (تمویل) میں اس شعبے کا حصہ 38.1 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ سرمایہ کاری کا انڈسٹری کے مجموعی حجم میں حصہ 16.9 فیصد رہا، جو مالیاتی مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسلامک بینکنگ اداروں کے مجموعی اثاثوں میں سال 2025 کے دوران 3.4 ٹریلین روپے کا خطیر اضافہ ہوا جس کے بعد اثاثوں کی مالیت دسمبر 2024 کے 11.070 ٹریلین روپے سے بڑھ کر سال کے اختتام تک 14.467 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔
اثاثوں کی ساخت کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مجموعی اسلامی بینکنگ اثاثوں میں نیٹ فنانسنگ کا حصہ 39.1 فیصد رہا، جبکہ نیٹ سرمایہ کاری کا حصہ 45.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی اثاثوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ سال کے دوران فنانسنگ میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔
فنانسنگ پورٹ فولیو میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 40 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر 2024 کے 4.037 ٹریلین روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 تک 5.654 ٹریلین روپے ہو گیا۔ اسی دوران، نیٹ سرمایہ کاری میں بھی 32.4 فیصد کی مضبوط نمو دیکھی گئی اور گزشتہ کیلنڈر سال کے اختتام تک اس کا حجم 6.605 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت شرعی اصولوں کے مطابق فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتی ہے جس سے اس شعبے کی مالیاتی گہرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اشارے نہ صرف اس صنعت کی مستقل ترقی کو نمایاں کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں اس کے گہرے انضمام کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ کلیدی میٹرکس میں مستقل بہتری اور برانچ نیٹ ورک کی توسیع، اس شعبے کی لچک اور اسلامی بینکاری کے لیے صارفین کی بڑھتی ہوئی ترجیح کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اسلامک بینکنگ اداروں کے مجموعی ڈپازٹس نے 2025 کے دوران اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا اور 3.132 ٹریلین روپے کے اضافے کے ساتھ 11.037 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اس نمو نے مجموعی بینکنگ انڈسٹری میں اسلامک بینکنگ اداروں کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جس سے ان کا مارکیٹ شیئر بڑھ کر 27.8 فیصد ہو گیا۔ دسمبر 2025 کے اختتام تک، مجموعی اسلامک بینکنگ ڈیپازٹس میں مکمل اسلامی بینکوں کا حصہ 56.7 فیصد رہا جبکہ اسلامک بینکنگ برانچزکا حصہ بڑھتا ہوا 43.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
ڈپازٹس کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس (بچت کھاتے) ترقی کے بنیادی محرک رہے جن کا حجم بالترتیب 4,577 ارب روپے اور 4,008 ارب روپے رہا۔ سیونگ ڈپازٹس میں 266 ارب روپے (7.1 فیصد) کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کرنٹ ڈیپازٹس 387 ارب روپے (9.2 فیصد) بڑھے۔ اس کے علاوہ سہ ماہی کے دوران فکسڈ ڈپازٹس میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو 186 ارب روپے (20.4 فیصد) تک پھیل گئے۔
سرمایہ کاری میں ہونے والے اس اضافے کو بنیادی طور پر حکومتِ پاکستان کے مختلف اجارہ سکوک میں کی گئی ایلوکیشنز (تخصیص) سے تقویت ملی۔
اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ روایتی بینکوں کی اسلامک بینکنگ برانچز نے اپنی نیٹ سرمایہ کاری میں ایک ٹریلین روپے کا نمایاں اضافہ کیا، جس کے بعد دسمبر 2025 میں ان کی مجموعی سرمایہ کاری 2.686 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس، مکمل اسلامی بینکوں کی سرمایہ کاری میں 609 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا حجم 3.919 ٹریلین روپے رہا۔ مارکیٹ شیئر کے نقطہ نظر سے، مکمل اسلامی بینک 59.3 فیصد کے ساتھ مجموعی نیٹ سرمایہ کاری میں اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ اسلامک بینکنگ برانچز کا حصہ 40.7 فیصد رہا۔
اسلامک بینکنگ اداروں کے منافع میں کمی دیکھی گئی، جہاں قبل از ٹیکس منافع دسمبر 2024 کے 497 ارب روپے سے کم ہو کر دسمبر 2025 کے اختتام تک 420 ارب روپے رہ گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments