BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے پر پاکستان اور ترکیہ کا تحمل برتنے کا مطالبہ

  • دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا
شائع March 3, 2026 اپ ڈیٹ March 3, 2026 11:13pm

منگل کو ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ٹیلیفونک گفتگو میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے شدت اختیار کرتے بحران پر تبادلۂ خیال کیا، حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔

وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی اور اس کے بعد ”برادر خلیجی ممالک پر افسوسناک حملوں“ پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے خلیجی قیادت کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ” تمام فریقین کی جانب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ“ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ تنازع مزید نہ پھیلے۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور امن و استحکام کے مشترکہ مقصد کے لیے قریب اور باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے کا عزم کیا۔

یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف مشترکہ امریکی‑اسرائیلی فوجی کارروائی نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا، جس پر کئی خلیجی دارالحکومتوں نے فوری طور پر فائر بندی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے علیحدہ بیانات میں ایران پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی حکومت نے اس ہفتے متعدد علاقائی شراکت داروں سے فعال رابطہ کیا، تشویشات کا اظہار اور تحمل برتنے کی تلقین کرتے ہوئے کویت، اردن، بحرین اور شام کے رہنماؤں سے بات کی۔

اسلام آباد نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے صرف مذاکرات اور سفارتکاری قابلِ عمل راستے ہیں، طاقت کا استعمال نہیں۔

Comments

200 حروف