BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.4%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 58.17 Increased By ▲ 0.48 (0.83%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.49 Increased By ▲ 0.10 (0.3%)
CNERGY 10.74 Increased By ▲ 0.13 (1.23%)
DFML 17.78 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
DGKC 207.31 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
FABL 100.36 Increased By ▲ 0.54 (0.54%)
FCCL 54.18 Increased By ▲ 0.12 (0.22%)
FFL 16.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 22.91 Decreased By ▼ -0.88 (-3.7%)
HBL 303.67 Increased By ▲ 2.37 (0.79%)
HUBC 217.12 Decreased By ▼ -0.10 (-0.05%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.19 (1.82%)
KEL 7.18 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
LOTCHEM 26.97 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
MLCF 94.87 Decreased By ▼ -0.72 (-0.75%)
OGDC 314.04 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 42.27 Increased By ▲ 0.15 (0.36%)
PIBTL 17.04 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 269.45 Decreased By ▼ -0.40 (-0.15%)
PPL 216.21 Increased By ▲ 1.06 (0.49%)
PRL 60.14 Increased By ▲ 3.51 (6.2%)
SNGP 102.89 Increased By ▲ 1.97 (1.95%)
SSGC 25.28 Increased By ▲ 0.10 (0.4%)
TELE 8.25 Decreased By ▼ -0.06 (-0.72%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.64 (5.03%)
TRG 60.85 Decreased By ▼ -0.95 (-1.54%)
UNITY 9.96 Decreased By ▼ -0.07 (-0.7%)
WTL 1.19 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ترکیه اور سعودی عرب کے درمیان شمسی توانائی کا بڑا معاہدہ

  • ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ہمارے توانائی کے شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہے
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب اور ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے جمعہ کو ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب ترکی میں ایسے شمسی پلانٹس کی تعمیر میں مدد فراہم کرے گا جو 20 لاکھ سے زیادہ گھروں کو بجلی مہیا کریں گے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کے 3 فروری کو ریاض کے تاریخی دورے کے فالو اپ میں، دونوں ممالک کے درمیان 2 ارب ڈالر کے بین الحکومتی توانائی معاہدے پر دستخط استنبول کے آبنائے باسفورس میں واقع تاریخی عثمانی محل میں ہوئے۔

ترکی رواں سال کے آخر میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کے سلسلے میں 31ویں عالمی سربراہی کانفرنس (COP31) کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ اجلاس کی صدارت آسٹریلیا کرے گا۔

ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات حالیہ برسوں میں مسلسل بہتر ہوئے ہیں، جو اکتوبر 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے سعودی ایجنٹوں کی جانب سے استنبول میں سعودی قونصلیٹ کے اندر قتل کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہوئے تھے۔

دونوں ممالک اب متعدد سفارتی امور پر باہمی تعاون کر رہے ہیں، جن میں غزہ کی حمایت اور 2024 میں صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام کی نئی حکومت کی پشت پناہی بھی شامل ہے۔

معاہدے کے تحت سعودی کمپنی اے سی ڈبلیو اے پاور( ACWA Power) ترکیہ کے وسطی صوبوں سیواس اور کارامان میں دو شمسی توانائی کے پلانٹس تعمیر کرے گی، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2,000 میگاواٹ ہوگی، جو حکام کے مطابق 21 لاکھ گھروں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے اس منصوبے کو ” ہمارے توانائی کے شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ” اپنی تاریخ کی کم ترین قیمت پر بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائے گا۔“

انہوں نے کہا کہ ترکیہ توانائی کے شعبے میں ایک ” انقلاب“ سے گزر رہا ہے، اور گزشتہ سال نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 62 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” ہم نے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی اپنی صلاحیت تقریباً صفر سے بڑھا کر آج 40 ہزار میگاواٹ سے تجاوز تک پہنچا دی ہے۔ ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ہمارے ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔“

ترکیہ کا ہدف ہے کہ 2035 تک شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی نصب شدہ صلاحیت کو 120,000 میگاواٹ تک بڑھایا جائے۔

انقرہ نے 2053 تک نیٹ زیرو اخراج کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے، تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اس کی 33.6 فیصد بجلی کوئلے سے حاصل کی گئی۔

ترکیہ کے کوئلے پر انحصار سے متعلق اے ایف پی کے سوال کے جواب میں بایراکتار نے کہا کہ ترکیہ سستی توانائی کے حصول اور توانائی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ” ابتدائی مرحلے میں کوئلے کا متبادل گیس ہو سکتی ہے، تاہم درمیانی اور طویل مدت میں اسے جوہری توانائی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔“

Comments

200 حروف