گلوبل انرجی الائنس کا 2028 تک بھارت کے بجلی کے گرڈز کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 10 کروڑ ڈالر جمع کرنے کا ہدف
- جی ای اے پی پی فلاحی ادارہ ہے جسے راک فیلر فاؤنڈیشن، آئی کے ای اے فاؤنڈیشن اور بیزوس ارتھ فنڈ کی حمایت حاصل ہے
گلوبل انرجی الائنس فار پیپل اینڈ پلینٹ(جی ای اے پی پی) کے چیف ایگزیکٹو ووچونگ ام نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ 2028 تک بھارت کے بجلی کے گرڈز کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے تقریباً 10 کروڑ ڈالر جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔
جی ای اے پی پی ایک فلاحی ادارہ ہے جسے راک فیلر فاؤنڈیشن، آئی کے ای اے اور بیزوس ارتھ فنڈ کا تعاون حاصل ہے۔
ممبئی کلائمیٹ ویک کے دوران رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ فنڈ راجستھان اور دہلی میں گرڈز کو ڈیجیٹل کرنے کے ابتدائی 2.5 کروڑ ڈالر کے منصوبے کی کامیابی کے بعد پورے ملک میں اس منصوبے کو پھیلانے میں مدد دے گا۔
گرڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب روایتی گرڈز کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس خودکار نظام میں تبدیل کرنا ہے، جس سے بجلی کی فراہمی میں بہتری، لاگت میں کمی اور ماحول دوست توانائی کے استعمال میں آسانی ہوگی۔
بھارت نے 2030 تک اپنی کاربن اخراج کی شدت میں 45 فیصد کمی اور 2070 تک نیٹ زیرو کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ووچونگ ام کے مطابق عالمی سطح پر فلاحی ادارے ایسے منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم ابھی تصورات تو بہت ہیں لیکن سرمایہ کاری کے قابل ٹھوس منصوبوں کی کمی ہے۔
یہ الائنس 2028 تک بھارت بھر میں کم از کم 15 یوٹیلیٹیز تک اپنے دائرہ کار کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔


Comments