“مالی سال 2025: سرکاری اداروں کے نقصانات 832.8 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئے
- ان اداروں کے مجموعی نقصانات کا حجم بڑھ کر 6.563 ٹریلین روپے ہوگیا
مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات 832.848 ارب روپے کی ہوشربا سطح تک پہنچ گئے جس کے بعد ان اداروں کے مجموعی نقصانات کا حجم بڑھ کر 6.563 ٹریلین (6,563 ارب) روپے ہوگیا ہے۔
یہ انکشاف وفاقی وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کی جانب سے جاری کردہ مالی سال 2025 (جولائی 2024 تا جون 2025) کی سالانہ مجموعی رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نقصان میں چلنے والے ان اداروں کے سرمائے میں یومیہ 3 ارب روپے کی کمی واقع ہورہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال 2025 (جولائی 2024 تا جون 2025) کے دوران 25 سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 832.8 ارب روپے کے خسارے کی اطلاع دی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی 294.9 ارب روپے کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ادارہ رہا، جس کے بعد کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (112.7 ارب روپے)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (92.7 ارب روپے)، پاکستان ریلوے (60.3 ارب روپے) اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (48.9 ارب روپے) کے نقصانات سب سے زیادہ رہے۔
دیگر بڑے خسارہ زدہ اداروں میں نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی (46.1 ارب روپے)، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی (29.4 ارب روپے)، پاکستان اسٹیل ملز (26.0 ارب روپے) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (25.3 ارب روپے) شامل ہیں۔ مزید نقصانات کی تفصیلات کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس کو 19.3 ارب روپے، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کو 19 ارب روپے، ’حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 12.9 ارب روپے، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 12.7 ارب روپے اور ’جنکو-II‘ کو 10.3 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔
نسبتاً کم نقصانات ریکارڈ کرنے والے اداروں میں نیشنل انشورنس کمپنی (2.9 ارب روپے)، سی پی پی اے-جی (2 ارب روپے)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (1.4 ارب روپے)، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (0.6 ارب روپے)، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (0.47 ارب روپے) اور پاکستان ایکسپو سینٹرز (0.22 ارب روپے) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (0.04 ارب روپے)، نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ (0.03 ارب روپے) اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (0.03 ارب روپے) کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی منافع میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی جو مالیاتی سال 2024 کے 820.7 ارب روپے سے گر کر مالیاتی سال 2025 میں 709.9 ارب روپے رہ گیا۔ منافع میں اس کمی کی بنیادی وجہ تیل کے شعبے میں منافع بخش سرکاری اداروں کے مالیاتی حصے میں کمی تھی جو کہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب نقصانات کی صورتحال میں معمولی بہتری دیکھی گئی جہاں سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات میں 2 فیصد کمی آئی۔ گزشتہ مالیاتی سال کے 851.4 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2025 میں مجموعی نقصانات کم ہو کر 832.8 ارب روپے رہ گئے۔ منافع اور نقصان میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ سال 2025 کے لیے کل خالص ایڈجسٹڈ نقصان بڑھ کر 122.9 ارب روپے ہو گیا، جو کہ 2024 میں 30.6 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments