BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.1%)
KSE30 Increased By (0.2%)
BAFL 56.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
BIPL 24.87 Increased By ▲ 0.24 (0.97%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.17%)
CNERGY 12.87 Decreased By ▼ -0.11 (-0.85%)
DFML 18.21 Increased By ▲ 0.72 (4.12%)
DGKC 189.23 Increased By ▲ 2.01 (1.07%)
FABL 92.99 Decreased By ▼ -0.72 (-0.77%)
FCCL 51.60 Decreased By ▼ -0.05 (-0.1%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 18.82 Decreased By ▼ -0.22 (-1.16%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 200.30 Increased By ▲ 1.34 (0.67%)
HUMNL 9.90 Increased By ▲ 0.05 (0.51%)
KEL 6.06 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.14 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
MLCF 91.50 Increased By ▲ 0.27 (0.3%)
OGDC 314.70 Increased By ▲ 1.31 (0.42%)
PAEL 35.00 Decreased By ▼ -0.24 (-0.68%)
PIBTL 14.40 Decreased By ▼ -0.31 (-2.11%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -1.12 (-0.47%)
PPL 220.30 Decreased By ▼ -1.06 (-0.48%)
PRL 92.33 Increased By ▲ 1.11 (1.22%)
SNGP 91.24 Increased By ▲ 0.37 (0.41%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.09 (-1.18%)
TPLP 12.16 Decreased By ▼ -0.40 (-3.18%)
TRG 55.97 Increased By ▲ 0.18 (0.32%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.02 (2%)
پاکستان

بیمہ شدہ شخص کی وفات کی اطلاع میں تاخیر کلیم مسترد کرنے کیلئے کافی وجہ نہیں، آئینی عدالت

  • کلیم مسترد ہونے پر ارشیہ کنول نے 08 اکتوبر 2019 کو فیڈرل انشورنس محتسب سے رجوع کیا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیمہ شدہ شخص کی وفات کی اطلاع انشورنس کمپنی کو تاخیر سے دینا، کلیم مسترد کرنے کی کوئی معقول یا قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔

عدالت نے یہ فیصلہ میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کی جانب سے دائر درخواست پر سناتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ مرحوم کی وفات کی اطلاع فوری طور پر نہیں دی گئی، تاہم محض تاخیر کو کلیم کو مسترد کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔

کیس کے حقائق کے مطابق محمد وقاص انجم نے 05 مارچ 2019 کو پاک قطر فیملی تکافل سے لائف انشورنس پالیسی حاصل کی تھی، جس کے تحت انہیں 38 لاکھ 50 ہزار روپے کی ڈیٹھ کوریج فراہم کی گئی۔ یہ پالیسی تین سالہ باقاعدہ شراکت اور پانچ سالہ رکنیت کی مدت پر مشتمل تھی۔ مرحوم نے اپنی بہن ارشیہ کنول کو قانونی طورپر نامزد کرکے مستحق قرار دیا تھا۔

محمد وقاص انجم 08 مئی 2019 کو، یعنی پالیسی کے آغاز کے چند ہی دن بعد، انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی اطلاع ای میل کے ذریعے ارشیہ کنول کے سوتیلے والد محمد خالد نے انشورنس کمپنی کو دی۔ تاہم کمپنی نے یکم اکتوبر 2021 کو کلیم مسترد کر دیا، جس کی وجوہات میں وفات کی اطلاع میں تاخیر، نامزد فرد کا حقیقی بہن نہ ہونے، مطلوبہ میڈیکل ریکارڈ کی عدم فراہمی اور مرحوم کے مبینہ منشیات کے عادی ہونے کے الزامات شامل تھے۔

کلیم مسترد ہونے پر ارشیہ کنول نے 08 اکتوبر 2019 کو فیڈرل انشورنس محتسب سے رجوع کیا، جس نے 06 جون 2022 کو فیصلہ دیتے ہوئے انشورنس کمپنی کو حکم دیا کہ وہ 30 دن کے اندر کلیم کی رقم ادا کرے۔ محتسب نے یہ بھی قرار دیا کہ کمپنی بلاجواز تاخیر کی مرتکب ہوئی اور اسے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا، جس کے خلاف کمپنی نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کے تحریر کردہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وفات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور ارشیہ کنول واحد نامزد مستحق ہیں، جبکہ کلیم مسترد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محتسب کا فیصلہ درست اور قانونی تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.