پاور ڈویژن صنعتی شعبے کیلئے بجلی کے پیک ریٹس کو متوازن بنانے کے منصوبے پر سرگرم
- قابلِ تجدید توانائی پر بڑھتے انحصار اور درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی کی وجہ سے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل میں تیزی آئی، نوید قیصر
پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ وہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے پیک ٹیرف (انتہائی طلب کے اوقات کے نرخوں) کو معقول بنانے کے منصوبے پر کام کررہا ہے جسے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے پیش کیا جائے گا، کیونکہ بجلی کی بلند قیمتیں صنعت کے لیے بدستور سب سے بڑی تشویش کا باعث ہیں۔
اس بات کا انکشاف ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن (پاور فنانس) نے نیپرا (پروسیومر) ریگولیشنز 2025 پر عوامی سماعت کے دوران کیا جس کا مقصد سولر صارفین کے لیے موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنا ہے۔
اس سماعت کی صدارت نیپرا چیئرمین وسیم مختار نے کی جبکہ ممبر (ڈیولپمنٹ) مقصود انور خان اور ممبر (ٹیرف اینڈ فنانس) آمنہ احمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
نیپرا کی اس عوامی سماعت میں ایک درجن سے زائد اسٹیک ہولڈرز اور صارفین کے نمائندوں نے مجوزہ طریقہ کار (نیٹ بلنگ) پر اپنی آراء کا اظہار کیا۔ ان شرکاء میں ندیم افضل چن (پی پی پی)، پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے وقاص موسیٰ، کے الیکٹرک کے نمائندے، کے سی سی آئی کے تنویر باری، معین فوڈا، ریحان جاوید، عامر شیخ، ہمایوں سیف اللہ، گیپکو کے عرفان رفیق بٹ، عارف بلوانی، اختر اعوان، آئی پی ایس کی امینہ سہیل اور دیگر شامل تھے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے نمائندے نوید قیصر نے اتھارٹی اور شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قابلِ تجدید توانائی پر بڑھتے ہوئے انحصار اور درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں صاف توانائی کا تناسب جو 2015 میں 40 فیصد تھا 2025 میں بڑھ کر 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور 2034 تک اس کے 90 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آن گرڈ روپ ٹاپ سولر (چھتوں پر لگے شمسی نظام) کی صلاحیت 2017 میں محض 5 میگاواٹ تھی جو اب بڑھ کر 6,975 میگاواٹ ہو چکی ہے اور 2034 تک اس کے 14,319 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، اسی طرح آف گرڈ سولر کی صلاحیت 13,000 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے اور 2034 تک اس کا ہدف 18,944 میگاواٹ مقرر کیا گیا ہے۔
نوید قیصر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈسٹری بیوٹڈ سولر (گھریلو اور انفرادی سطح پر لگائے گئے شمسی نظام) کی تیز رفتار ترقی گرڈ کے لیے کئی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ ان مسائل میں سسٹم پر دباؤ، ڈک کرو ایفیکٹس ، بجلی کی طلب میں اچانک شدید اضافہ، وولٹیج اور بیک فیڈ کے مسائل اور گرڈ کا عدم استحکام شامل ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ سردیوں میں بجلی کی طلب کم ہو کر تقریباً 6,000 سے 10,000 میگاواٹ رہ جاتی ہے، جس کی وجہ سے گرڈ پر موجود قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی پیداوار محدود کرنی پڑتی ہے اور آپریشنل اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 73 فیصد فکسڈ اخراجات شامل ہیں اور گرڈ سے بجلی کی فروخت میں کمی کی وجہ سے نیٹ میٹرنگ کا مالی بوجھ ان صارفین پر منتقل ہو رہا ہے جو سولر استعمال نہیں کرتے۔ان کے بقول، آف گرڈ اور ہائبرڈ سولر صارفین کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد میں مصنوعی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سبسڈی کا نظام متاثر ہو رہا ہے، کراس سبسڈی کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور صنعتی و تجارتی شعبے کی مسابقت کمزور پڑ رہی ہے۔
مجوزہ قواعد و ضوابط کے تحت، سولر سسٹم لگانے کی حد منظور شدہ لوڈ کے 1.5 گنا سے کم کر کے ایک گنا تک محدود کر دی جائے گی (زیادہ سے زیادہ 1 میگاواٹ تک)۔ معاہدے کی مدت سات سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے گی اور نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں کریڈٹ سیٹلمنٹ کی مدت سہ ماہی کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر منتقل کردی جائے گی اور بائے بیک ریٹ 25.32 روپے فی یونٹ مقرر کی جائے گی۔ نئے صارفین کے لیے بجلی کی خریداری انرجی پرچیز پرائس (ای پی پی) کی بنیاد پر کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں قیصر نے بتایا کہ اس وقت نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے 4 فیصد صارفین، سولر سسٹم کے بغیر والے صارفین پر 2.87 روپے فی یونٹ کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیپرا نے مجوزہ قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی تو نان سولر صارفین کو ابتدائی طور پر تقریباً 0.87 روپے فی یونٹ کا ریلیف ملے گا، جبکہ ایک سال بعد مزید ریلیف کی توقع ہے۔
محفوظ بھٹی نے بیان کیا کہ نان سولر صارفین پر نیٹ میٹرنگ کا مجموعی مالی اثر 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے ایک اہلکار نے پیک پیریڈز کے دوران گرڈ کی کمزوریوں پر روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ عید کی تعطیلات کے دوران جب صنعتی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں تو بجلی کا نظام انتہائی نازک ہو جاتا ہے۔
پی پی پی کے رہنما ندیم افضل چن نے واضح ریگولیٹری ہدایات کے باوجود نیٹ میٹرنگ کی تنصیب میں تاخیر پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں بدعنوانی کا الزام لگایا اور انتباہ دیا کہ ان کی جماعت نیپرا کے کسی بھی منفی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔
بجلی شعبے کے ایک ماہر نے تجویز دی کہ سولرائزیشن کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے لیکن نیٹ میٹرنگ صارفین پر 10,000 روپے فیس عائد کی جائے تاکہ دوسرے صارفین کے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد نے مشورہ دیا کہ شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے گرڈ کو جدید بنایا جائے۔
ریحان جاوید نے دلیل دی کہ اگر حکومت 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے جبکہ (دیگر ذرائع سے) 25.32 روپے ادا کر رہی ہے، تو اسے عام صارفین کے لیے 2.87 روپے فی یونٹ ڈسکاؤنٹ کا اعلان بھی کرنا چاہیے۔
متعدد ماہرین نے پی پی ایم سی کے اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں غیر درست قرار دیا اور تجویز دی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اعداد و شمار کی کسی تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے۔
ان شکایات پر کہ ڈسکوز نے نیٹ میٹرنگ کے نئے کنکشن روک دیے ہیں۔ چیئرمین نیپرا نے وارننگ دی کہ پاور ڈویژن کو اس پر ایکشن لینا ہوگا ورنہ نیپرا قانونی کارروائی کا آغاز کرے گا۔
عارف بلوانی نے سوال اٹھایا کہ کیا پاور ڈویژن یا پی پی ایم سی اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ نئے قواعد و ضوابط سے بجلی کے شعبے کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟
کراچی چیمبر کے نمائندے تنویر باری نے خبردار کیا کہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلیاں گرین انرجی (ماحول دوست توانائی) کو بری طرح متاثر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک خود تو بجلی 55 سے 60 روپے فی یونٹ فروخت کر رہے ہیں جبکہ سولر صارفین سے یہی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ میں خرید رہے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور بھاری ’کیپیسٹی پیمنٹس‘ (بجلی گھروں کو استعمال کے بغیر دی جانے والی رقوم) کو اصل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلیوں سے صارفین بیٹریوں کے استعمال (آف گرڈ) کی طرف مجبور ہوں گے، جس سے درآمدات بڑھیں گی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حال ہی میں لگائے گئے 10 فیصد سیلز ٹیکس نے پہلے ہی سولر کے فروغ کو متاثر کیا ہے، جبکہ صنعتوں نے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے ہی اپنی بجلی کی لاگت کو متوازن کیا ہوا تھا۔
سابق سینیٹر نعمان وزیر نے مجوزہ قواعد و ضوابط کی حمایت کی اور اس بات کی وضاحت طلب کی کہ کیا 2.87 روپے فی یونٹ کا ریلیف صنعتی شعبے کو بھی دیا جائے گا یا نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments