ٹرمپ نے برطانیہ کو چین سے تعلقات پر خبردار کردیا
- برطانوی وزیراعظم نے چین کے دورے کے دوران اقتصادی فوائد پر زور دیا اور تعلقات کی بحالی کو اہم قرار دیا
برطانوی وزیراعظم کی چین کے دورے کے دوران بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کا سبب بن گئیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کے لیے بیجنگ کے ساتھ کاروبار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، جبکہ برطانوی وزیراعظم نے چین کے دورے کے دوران اقتصادی فوائد پر زور دیا اور تعلقات کی بحالی کو اہم قرار دیا۔
چینی صدر ژی جن پنگ کے ساتھ تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں برطانوی وزیراعظم نے مارکیٹ تک بہتر رسائی، کم ٹیرف اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی، جبکہ کھیل اور شیکسپیئر کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے برعکس واشنگٹن میں ٹرمپ نے چین کے ساتھ قریب تعلقات کی جانب بڑھنے پر سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ ان کے لیے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔
چینی دارالحکومت میں یو کے-چائنا بزنس فورم کے اجلاس میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ژی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بہت مثبت رہیں اور ویزا فری سفر اور وسکی پر کم ٹیرف جیسے معاہدے اہم پیش رفت ہیں، جو باہمی اعتماد اور احترام کی علامت ہیں۔ شنگھائی کے مالیاتی مرکز جانے سے پہلے چینی کاروباری رہنماؤں سے ملاقات ہوئی، جس میں چیری کار کمپنی کے سی ای او نے اپنی تحقیق و ترقی کی سہولت کو لِورپول میں کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
برطانوی قیادت نے واضح کیا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں توازن قائم کرنا ممکن ہے اور اس کے لیے کسی ایک کا انتخاب ضروری نہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات انتہائی قریبی ہیں اور دفاع، سکیورٹی، انٹیلی جنس اور تجارت جیسے شعبوں میں مضبوط تعاون موجود ہے۔
اقتصادی طور پر ٹرمپ کی تجارتی دھمکیوں اور گرین لینڈ کے حوالے سے متنازعہ بیانات کے باوجود، برطانوی قیادت نے چین کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کو ترجیح دی۔ امریکی نمائندوں نے خبردار کیا کہ چین ایک مشکل برآمدی منڈی ہے اور برطانیہ کے لیے وہاں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ برطانوی حکومت نے چین کے دورے سے پہلے واشنگٹن کو اپنے مقاصد سے آگاہ کیا تاکہ حساس امور پر ہم آہنگی قائم رہے۔


Comments