BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.62 Increased By ▲ 0.65 (3.43%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.20 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.57 Decreased By ▼ -0.32 (-1.15%)
MLCF 87.15 Increased By ▲ 0.64 (0.74%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.37 Increased By ▲ 0.70 (4.2%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.10 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.96 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.60 Increased By ▲ 0.38 (4.62%)
TRG 69.75 Increased By ▲ 0.04 (0.06%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

ڈیجیٹل کرنسیوں کا دور— دوسری اور آخری قسط

  • آج کے پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج واضح ہے: ایسا ایک ایکو سسٹم تشکیل دینا جو مالی سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی نمو کو تقویت دے
شائع January 29, 2026 اپ ڈیٹ January 29, 2026 04:50pm

پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک فعال ریگولیٹری فریم ورک کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جس کا مقصد اس تیزی سے بڑھتی ہوئی اثاثہ جاتی کلاس میں موجود بے پناہ قدر کو بروئے کار لانا ہے۔ آج کے پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج واضح ہے: ایسا ایک ایکو سسٹم تشکیل دینا جو مالی سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی نمو کو تقویت دے۔

کرپٹو کونسل اور ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی جیسے اقدامات کے ذریعے پاکستان نے قیادت کے لیے اپنی آمادگی کا اشارہ دیا ہے۔ اب حکومت اور بینکنگ سیکٹر کے درمیان ہم آہنگ شراکت داری وہ محرک ثابت ہو سکتی ہے جو ڈیجیٹل کرنسیوں کو قومی ترقی کا ایک بنیادی ستون بنا دے۔

تاہم ایک مستقل چیلنج تاثر کا ہے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کو اکثر دو انتہاؤں میں دیکھا جاتا ہے—یا تو قیاس آرائی پر مبنی آلات کے طور پر یا مانیٹری خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ امر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسٹیبل کوائنز، غیر ضمانت یافتہ کرپٹو کرنسیوں کے برعکس، ایک ریگولیٹڈ مالیاتی نظام کے اندر نہایت مخصوص اور نتیجہ خیز استعمال کے لیے ڈیزائن کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ ڈیجیٹل تبدیلی میں حکومت کا کردار بلاشبہ نمایاں ہے، تاہم اس کی کوششوں کو مالیاتی اداروں کی جانب سے مناسب طور پر تقویت دینا بھی ناگزیر ہے۔ بنیادی طور پر بینکوں کے اندر ایک جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

بینکنگ کے نقطۂ نظر سے اسٹیبل کوائنز کسی ایک پروڈکٹ کے بجائے ایک ماڈیولر ٹول کِٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کراس بارڈر سیٹلمنٹس کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں، ٹریڈ فنانس کے ورک فلو کو خودکار بنا سکتے ہیں، فوری ریکنسلی ایشن ممکن بنا سکتے ہیں، ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کی معاونت کر سکتے ہیں اور کم لاگت ریمیٹنس کوریڈورز کو سہل بنا سکتے ہیں۔ جب ان اطلاقات کو ریگولیٹری گارڈ ریلز کے اندر ضم کیا جائے تو یہ رسمی مالیاتی ثالثی کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط بناتے ہیں۔

بینک آف پنجاب (بی او پی) نے بالخصوص گزشتہ کئی برسوں کے دوران ضروری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مارکیٹ یوز کیسز کی تشکیل پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں نمایاں سنگ میل حاصل کیے گئے، جن میں 80 لاکھ برانچ لیس والٹس کا انتظام، 10 لاکھ موبائل صارفین اور 200 ارب روپے پر مشتمل ڈیجیٹل لینڈنگ پورٹ فولیو شامل ہے۔ بی او پی کی حکمت عملی اس امر پر زور دیتی ہے کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی کامیابی کے لیے مالیاتی اداروں کو موجودہ ٹیکنالوجی اسٹیک سے فائدہ اٹھانا اور فِن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ساتھ نادرا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جیسے سرکاری اداروں سے اشتراک کرنا ہوگا۔ اس فعال حکمت عملی میں ریگولیٹری سینڈ باکسز کے اندر کراس بارڈر اسٹیبل کوائن سیٹلمنٹس جیسے جدید محاذوں کی تلاش اور نادرا پاک آئی ڈی کے ذریعے سنگل سائن آن ( ایس ایس او) شناختوں کا انضمام بھی شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک اور کلیدی ادارہ ہے جو محتاط مبصر کے کردار سے نکل کر اس ڈیجیٹل مستقبل کا فعال معمار بن چکا ہے۔ اس نے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی ( سی بی ڈی سی) منصوبے کا تصور پیش کیا ہے اور 2022 سے اس کی افادیت کا جائزہ لے رہا ہے، بالخصوص یہ جانچنے کے لیے کہ ڈیجیٹل روپیہ موجودہ نظاموں جیسے راست سے آگے کس طرح قدر کا اضافہ کر سکتا ہے۔ فائیو پی میتھڈالوجی—جس میں ابتدائی تیاری ( پریپریشن)، پروف آف کونسیپٹ( پی او سی)، مصنوعات کی تیاری( پروڈکشن)، پروٹو ٹائپ، پائلٹ شامل ہیں— کے تحت اسٹیٹ بینک ابتدائی تیاری کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پی او سی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مخصوص یوز کیسز، مثلاً کراس بارڈر پیمنٹس میں بہتری اور سماجی ادائیگیوں کے نظام کو ہموار بنانے، کی جانچ کی جا رہی ہے۔

سی بی ڈی سی کی تیاری حکمت عملی کے تحت دو بڑے مقامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی ہے: گردش میں موجود فزیکل کرنسی کے بلند حجم میں کمی، جو اس وقت غیر رسمی معیشت کو تقویت دیتا ہے، اور آف لائن پیمنٹ کی صلاحیت کا فروغ تاکہ انٹرنیٹ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں راست (آر اے اے ایس ٹی) نیٹ ورک کی تکمیل کی جا سکے۔ موجودہ جائزہ اہم ڈیزائن انتخاب پر مرکوز ہے، جیسے یہ کہ نظام سینٹرلائزڈ ہوگا یا ڈی ایل ٹی( ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی پر مبنی، اور آیا یہ ریمیونی ریٹڈ ہوگا یا نان ریمیونی ریٹڈ اثاثہ۔ پاکستان کا طریقۂ کار عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے—جیسے چین میں نجی شعبے کے بیک اپس کی ضرورت، سویڈن میں کیش کے استعمال میں کمی کا ردعمل اور بہاماس میں تقسیم کے اخراجات کم کرنے کی کوششیں—جن کے تحت ایک کم لاگت اور زیادہ مضبوط مالیاتی انفراسٹرکچر کی تلاش کی جا رہی ہے۔

اگرچہ مذکورہ فوائد واضح ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنانے سے جڑے خطرات کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا اہم ہے کہ امریکا کے ساتھ قربت پاکستانی کمپنیوں کے لیے امریکی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے، جس کی مثال اسٹارٹ اپ ’زار‘ ہے، جس نے حال ہی میں 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اکٹھے کیے۔ یہ رجحان پاکستان میں کاروبار، بالخصوص کریٹیکل میٹلز جیسے شعبوں، کے لیے امریکی سرمایہ کاری متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ ممکنہ خدشات کی جانب توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر زار(زیڈ اے آر) جیسے نجی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں؛ پاکستانی روپے کی جگہ ڈالر اسٹیبل کوائنز کے امکان کا کھل کر ذکر کیے جانے سے ان پلیٹ فارمز کو امریکی مالیاتی کنٹرول کے پھیلاؤ کا ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ اسٹیبلیٹی ایک ثانوی مگر اتنی ہی سنگین تشویش کا باعث ہے۔ بٹ کوائن جیسی بڑی کرپٹو کرنسیوں کی حالیہ بلند سطحوں سے 25 فیصد کمی کے نتیجے میں پاکستانی عوام کو، خصوصاً بائنانس جیسے مقبول پلیٹ فارمز پر لیوریجڈ کنٹریکٹس کے ذریعے، نمایاں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس درجے کی مالی بے چینی یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ حکومت ایک جانب شعبے کی حمایت ظاہر کرتے ہوئے ان خطرات کا انتظام کس طرح کرے گی۔

یوں پاکستان ایک نازک توازن کے مرحلے سے گزر رہا ہے: اسے عالمی سطح پر مسابقتی ٹیک ایکو سسٹم کو فروغ دینے اور بیرونی جیو پولیٹیکل اثرات و اندرونی مارکیٹ عدم استحکام کے باعث اپنی معاشی خودمختاری کے تحفظ کے درمیان موجود کشمکش کو دانش مندی سے سنبھالنا ہوگا۔

بینک آف پنجاب نے 2025 کی ایس ڈی پی آئی سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کانفرنس کے دوران ماہرین پر مشتمل ایک پینل کی میزبانی کی، جہاں ماہرین نے متعدد سفارشات پیش کیں جن پر درمیانی مدت میں عمل درآمد کے ذریعے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل کرنسیوں کو ہموار انداز میں اپنانا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس افرادی صلاحیت اور قدرتی وسائل کی وافر دولت موجود ہے جو ڈیجیٹل معاشی تبدیلی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو مضبوط آن شور ٹوکنائزیشن فریم ورکس تشکیل دینا ہوں گے، جبکہ ریگولیٹرز کو ان پالیسیوں کو مؤثر اور بغیر رکاوٹ نفاذ میں ڈھالنا ہوگا۔

اس ریگولیٹری معاونت کے تحت مالیاتی ادارے اور بینک ٹوکنائزڈ ڈپازٹس اور اسٹیبل کوائن پر مبنی ریمیٹنس جیسی جدید خدمات متعارف کرا سکتے ہیں تاکہ کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔ مزید برآں، یہ پیش رفت جدید ٹریڈ فنانس ٹرانزیکشنز، اسٹیبل کوائن کولیٹرلائزڈ لینڈنگ اور محفوظ کسٹڈی سروسز کو ممکن بنائے گی، جس کے نتیجے میں پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مسابقتی کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ کرپٹو کونسل کو ایک زیادہ جامع اور وسیع البنیاد ادارے میں ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ مالیاتی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں متنوع نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کوششوں کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے پاکستان کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی ) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) جیسے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت اور مہارت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل کوئی انتخاب نہیں بلکہ دہری حکمت عملی پر مبنی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ریگولیٹڈ کرپٹو اور ریاستی سرپرستی میں جاری اقدامات کو الگ الگ راستوں پر آگے بڑھانا پائیدار نہیں۔ کامیابی کے لیے ہمیں فوری اقدام کرنا ہوگا: اندرونی سطح پر شمولیت بڑھانے اور خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی ( سی بی ڈی سی ) کو اپنانا ہوگا، جبکہ بیک وقت اسٹیبل کوائنز کو کرپٹو مارکیٹ میں اسٹریٹجک گیٹ وے کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔

یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ کرپٹو کرنسی ایک جامع اصطلاح ہے جو ایک وسیع اثاثہ جاتی کلاس کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں قیاس آرائی پر مبنی خصوصیات—جیسے بٹ کوائن—بھی شامل ہیں اور حقیقی لین دین کی افادیت—جیسے اسٹیبل کوائن—بھی۔ بالآخر یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ کرپٹو کی کس صنف کو کس انداز میں ریگولیٹ کیا جائے: بٹ کوائن کو پی ایس ایکس کی طرز پر سرکٹ بریکرز کے ساتھ، اور اسٹیبل کوائنز کو خودمختار ریزروز کے ساتھ یا بغیر، تاکہ ریگولیٹر کی صوابدید کے مطابق بنیادی یوز کیسز کی اجازت اور فروغ دیا جا سکے۔ تاہم تمام کرپٹو کرنسیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا اور ’’تھروئنگ دی بے بی آؤٹ وِد دی باتھ واٹر‘‘ یعنی یہ ہے کہ تمام کرپٹو کرنسیوں کو یکساں طور پر نقصان دہ قرار دے کر مسترد کر دینا) دانشمندانہ بیانیہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے پاکستان اس ناگزیر اپنانے کے عمل میں پیچھے رہ جائے گا—بالخصوص اس تناظر میں کہ ہماری 70 فیصد آبادی کی عمر 23 سال سے کم ہے، جن کی رگوں میں ڈیجیٹل اپنانے کا رجحان رواں ہے اور جس کا استعمال ان کے لیے فطری امر ہے۔ یہ کوئی محض ’’اچھی چیز‘‘ یا ’’پرکشش تجویز‘‘ نہیں بلکہ ایک پائیدار مستقبل کے لیے بقا کا سوال ہے، جو ہمارے عوام اور برادریوں کی فلاح کے لیے درکار مالی شمولیت کو تیزی سے فروغ دے سکتا ہے۔

(اختتام)

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف