ایس بی پی کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے بعد 100 انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 188,202.85 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے ایک دن بعد بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 189,521.32 کی بلند ترین سطح کو چھو گیا تاہم بینکنگ سیکٹر کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ تیزی عارضی ثابت ہوئی اور جلد ہی مارکیٹ فروخت کے دباؤ کی لپیٹ میں آگئی جس نے انڈیکس کو 187,538.23 کی نچلی ترین سطح پر دھکیل دیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 384.81 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 188,202.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایف ایف سی، ایم ای بی ایل، پی پی ایل، ایس وائی ایس اور بی اے ایف ایل سمیت اہم ہیوی ویٹ اسٹاکس سے حاصل ہونے والے منافع نے کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 949 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم،ایفرٹ، اینگرو ہولڈنگ اور حبکو کے حصص میں مندی کے دباؤ نے اس فائدے کو جزوی طور پر کم کر دیا، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 637 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں ”واضح سمت موجود نہیں تھی کیونکہ سرمایہ کاروں نے ایک دن قبل اعلان کردہ ایس بی پی کے غیر متوقع نوچینج (بغیر تبدیلی) پالیسی فیصلے کو ہضم کرنا جاری رکھا، جس کے نتیجے میں زیادہ تر شعبوں میں محتاط تجارتی رویہ دیکھنے میں آیا“۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو سال 2026 کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں بینچ مارک پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکی بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج سے بہتر توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر نئے ٹیرف اقدامات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے مجموعی بڑھوتری کو محدود رکھا جبکہ سونا اور چاندی کی قیمتوں کو سہارا ملا۔
حصص بازاروں نے اس خبر پر پُرسکون ردِعمل دیا جب کہ نیسڈیک فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار بدھ سے شروع ہونے والے نام نہاد میگنیفیسنٹ سیون مائیکروسافٹ، ایپل اور ٹیسلا سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں کے مالی نتائج کے منتظر ہیں۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی ابتدائی خسارے کے بعد تیزی سے سنبھل گیا اور آخرکار 0.8 فیصد اضافے پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
سونے کی قیمت 1 فیصد بڑھ کر 5,066 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ چاندی 6.4 فیصد بڑھ کر 110.60 ڈالر فی اونس ہو گئی۔
ایشیا میں، ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.1 فیصد گر گیا، جس کی وجہ حالیہ دن میں ین کی تیز بحالی ہے، جس نے جاپان کے وسیع برآمدی شعبے کے لیے امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری دکھائی اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.82 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر حجم 870.44 ملین سے کم ہو کر 749.25 ملین رہ گیا۔ حصص کی مجموعی مالیت 57.19 ارب روپے سے گھٹ کر 53.06 ارب روپے ہو گئی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ سب سے زیادہ حجم والا اسٹاک رہا جس کے 90.16 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول کے 47.95 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب کے 35.97 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
منگل کو 486 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 160 کے شیئرز میں اضافہ، 278 میں کمی اور 48 کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔



Comments