BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.57%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 58.68 Increased By ▲ 0.24 (0.41%)
BIPL 25.65 Increased By ▲ 0.45 (1.79%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.12 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.94 Increased By ▲ 0.10 (0.48%)
DGKC 195.49 Increased By ▲ 2.52 (1.31%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.59 Increased By ▲ 0.76 (1.44%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.10 (0.56%)
GGL 19.24 Increased By ▲ 0.27 (1.42%)
HBL 286.10 Increased By ▲ 0.60 (0.21%)
HUBC 214.99 Increased By ▲ 0.61 (0.28%)
HUMNL 10.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.87 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 87.64 Increased By ▲ 1.13 (1.31%)
OGDC 323.10 Increased By ▲ 3.14 (0.98%)
PAEL 40.10 Increased By ▲ 0.68 (1.73%)
PIBTL 17.10 Increased By ▲ 0.43 (2.58%)
PIOC 271.80 Increased By ▲ 5.74 (2.16%)
PPL 229.90 Increased By ▲ 1.72 (0.75%)
PRL 34.96 Increased By ▲ 0.28 (0.81%)
SNGP 99.27 Increased By ▲ 0.09 (0.09%)
SSGC 26.90 Increased By ▲ 0.30 (1.13%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.69 Increased By ▲ 0.47 (5.72%)
TRG 69.94 Increased By ▲ 0.23 (0.33%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)
پاکستان

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اہم مذاکرات، پی ٹی سی ایل معاملات کا جائزہ لیا

*دونوں فریق پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع بھی تلاش کریں گے
شائع January 24, 2026 اپ ڈیٹ January 24, 2026 03:23pm

پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یواے ای) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنا اور ٹیلی کام کے اس بڑے ادارے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یہ پیشرفت دبئی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی جس میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جاسم محمد بو عتابہ سے ملاقات کی۔ جاسم محمد ابوظہبی کے محکمہ خزانہ کے چیئرمین، ابوظہبی کی مالیاتی اور اقتصادی امور کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل،چیئرمین اتصالات اور ابوظہبی ہولڈنگ کمپنی کے وائس چیئرمین ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھائی چارے، دوستی اور باہمی تعاون کے گہرے تاریخی رشتوں کو اجاگر کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق دونوں فریقین نے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیا اور وسیع تر باہمی خوشحالی کے حصول کے لیے تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں اتصالات کی پاکستان میں جاری سرمایہ کاری اور پی ٹی سی ایل میں یو اے ای کی شراکت داری سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو قیادت کی ہدایات کے مطابق نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے پی ٹی سی ایل کے آپریشنز اور مستقبل کی ترقی سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے بقیہ مسائل کو فوری طور پر حل کرنے اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تاریخی خیر سگالی کے جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے سرمایہ کاری، تجارت اور مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں کھولنے پر بھی زور دیا۔ جاسم محمد بو عتابہ نے اس سے مکمل اتفاق کیا اور مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ وہ دیرینہ معاملات کو تیزی سے حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے اور ایسے اقدامات کو فعال طور پر فروغ دیں گے جن سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت ملے، جو کہ ان کی متعلقہ قیادت کی رہنمائی کے عین مطابق ہے۔

واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات کی انتظامیہ سے ملاقات کے لیے دبئی پہنچے۔ اس سرکاری دورے کا مقصد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نامکمل نجکاری کے حوالے سے تقریباً 799 ملین ڈالر کی رقم روکے جانے سے متعلق دیرینہ تنازع کو حل کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کا دورۂ متحدہ عرب امارات ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اسحاق ڈار کے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی رپورٹوں کے دوران ہو رہا ہے۔

2006 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.6 ارب ڈالر کے عوض ’اتصالات انٹرنیشنل پاکستان‘ کو فروخت کر کے اس کی نجکاری کی۔ اگرچہ شروع میں اسے ایک سنگِ میل اصلاحات کے طور پر سراہا گیا، لیکن یہ سودا جائیدادوں کی منتقلی کے طویل تنازع کا شکار ہو گیا، جس کی وجہ سے اتصالات نے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر کی رقم ابھی تک روک رکھی ہے۔

پاکستانی حکومت پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق 2006 کے معاہدے میں درج پی ٹی سی ایل کی جائیدادیں متحدہ عرب امارات کی کمپنی کو منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کوششوں کے باوجود یہ تنازع حل طلب ہے، جبکہ 2025 کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائیدادوں کی منتقلی کے حل نہ ہونے والے مسائل کو نمٹانے کے لیے نئے سرے سے ’ان کیمرہ‘ (خفیہ) مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق، پاکستان اپنے اس سابقہ فیصلے پر قائم ہے کہ 16 سال پرانے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی (عدالتی راستہ) اختیار نہیں کی جائے گی۔


Comments

200 حروف