پاکستان اور دیگر عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے
- بحرین، مراکش، آرمینیا، آذربائیجان، ارجنٹائن، ہنگری، بلغاریہ، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے دستاویز پر دستخط کیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں اپنے نئے بورڈ آف پیس (امن بورڈ) کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس ادارے کی رکنیت فیس ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ اس کے مدعوئین کی فہرست بھی متنازع ہے۔
پاکستان سمیت 19 ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک گروپ ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر جمع ہوا، تاکہ اس ادارے کے بانی چارٹر پر دستخط کیے جا سکیں۔ ٹرمپ کے ساتھ اس دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں بحرین، مراکش، آرمینیا، آذربائیجان، ارجنٹائن، ہنگری، بلغاریہ، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور منگولیا کے حکام شامل تھے۔
ٹرمپ جو اس بورڈ کے چیئرمین ہیں نے شرکاء کے بارے میں کہا یہ زیادہ تر معاملات میں بہت مقبول رہنما ہیں اور کچھ معاملات میں اتنے مقبول نہیں لیکن زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
اصل میں اس بورڈ کا مقصد حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد غزہ میں امن کی نگرانی کرنا تھا لیکن اس کا چارٹر بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک وسیع تر کردار کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ ٹرمپ اسے اقوامِ متحدہ کے مدمقابل لانا چاہتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
بورڈ آف پیس کی ممکنہ رکنیت متنازع ثابت ہوئی ہے کیونکہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی مدعو کیا ہے جنہوں نے چار سال قبل یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیوٹن شامل ہونے پر راضی ہو گئے ہیں، جبکہ روسی رہنما کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس دعوت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ مستقل ارکان کے لیے شمولیت کی قیمت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے، جس پر یہ تنقید ہو رہی ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ”رقم دے کر شمولیت“ والا ورژن بن سکتا ہے۔
امریکہ کے اہم اتحادیوں بشمول فرانس اور برطانیہ نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔ اسٹیج پر موجود ارکان میں زیادہ تر وہ تھے جن کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جیسے ہنگری کے وکٹر اوربان اور ارجنٹائن کے جیویر مائیلی یا وہ جو امریکی صدر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو جنہیں غزہ جنگ پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کا سامنا ہے نے کہا ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں گے لیکن وہ تقریب میں موجود نہیں تھے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تقریب میں بتایا کہ بورڈ کی توجہ سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ غزہ کا یہ امن معاہدہ دیرپا ثابت ہو۔ تاہم ٹرمپ نے انتباہ دیا کہ غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے تحت حماس کو نہتے ہونا پڑے گا، ورنہ یہ ان کا خاتمہ ہو گا۔
اس بورڈ کا آغاز ٹرمپ کی اس مایوسی کے پس منظر میں ہوا ہے کہ وہ آٹھ تنازعات ختم کرنے کے متنازع دعوے کے باوجود نوبل امن انعام جیتنے میں ناکام رہے۔
پیوٹن کی اس بورڈ میں شمولیت نے امریکی اتحادیوں، بالخصوص یوکرین کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ ”بورڈ آف پیس“ کی تقریب کے بعد ڈیووس میں ہی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے، تاکہ یوکرین میں جنگ بندی پر بات کی جا سکے،ایک ایسا بڑا امن معاہدہ جو اب تک ان کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف جو آج پیوٹن سے ملاقات کے لیے ماسکو روانہ ہو رہے ہیں نے ڈیووس میں کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں ”کافی پیش رفت“ ہوئی ہے اور اب بات صرف ایک مسئلے پر آ رکی ہے۔ وٹکوف نے اس مسئلے کی وضاحت کیے بغیر کہا میرا خیال ہے کہ ہم اسے حل کر سکتے ہیں۔
دریں اثنا زیلنسکی نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی ٹرمپ کی کوشش جس نے اب تک ڈیووس کے ماحول پر غلبہ پایا ہوا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے، توجہ کو یوکرین پر روسی حملے سے ہٹا سکتی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے بدھ کی رات دیر گئے کہا کہ نیٹو سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے بعد انہوں نے ایک مستقبل کے معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے اور اس لیے وہ یورپی اتحادیوں پر یکم فروری سے لگنے والے ٹیرف (محصولات) معطل کر دیں گے۔
انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جس پر یورپی ممالک نے محتاط اطمینان کا سانس لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ڈیل کے حصے کے طور پر 1951 کے گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دوبارہ بات چیت کی جائے گی۔


Comments