BR100 Decreased By (-0.97%)
BR30 Decreased By (-1.55%)
KSE100 Decreased By (-0.89%)
KSE30 Decreased By (-0.94%)
BAFL 57.16 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 27.08 Decreased By ▼ -0.39 (-1.42%)
BOP 33.35 Decreased By ▼ -0.60 (-1.77%)
CNERGY 10.76 Decreased By ▼ -0.19 (-1.74%)
DFML 18.01 Decreased By ▼ -0.19 (-1.04%)
DGKC 207.89 Decreased By ▼ -5.44 (-2.55%)
FABL 100.29 Decreased By ▼ -0.67 (-0.66%)
FCCL 54.68 Decreased By ▼ -1.17 (-2.09%)
FFL 16.07 Decreased By ▼ -0.14 (-0.86%)
GGL 24.48 Decreased By ▼ -0.60 (-2.39%)
HBL 303.25 Decreased By ▼ -3.59 (-1.17%)
HUBC 219.33 Decreased By ▼ -3.68 (-1.65%)
HUMNL 10.49 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 7.29 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.32 Decreased By ▼ -0.38 (-1.37%)
MLCF 95.67 Decreased By ▼ -1.24 (-1.28%)
OGDC 317.05 Decreased By ▼ -3.95 (-1.23%)
PAEL 42.34 Decreased By ▼ -0.85 (-1.97%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 276.22 Decreased By ▼ -11.36 (-3.95%)
PPL 218.15 Decreased By ▼ -4.69 (-2.1%)
PRL 57.37 Decreased By ▼ -1.78 (-3.01%)
SNGP 101.08 Decreased By ▼ -2.78 (-2.68%)
SSGC 25.57 Decreased By ▼ -0.39 (-1.5%)
TELE 8.32 Decreased By ▼ -0.24 (-2.8%)
TPLP 12.79 Increased By ▲ 0.03 (0.24%)
TRG 61.00 Increased By ▲ 0.61 (1.01%)
UNITY 10.06 Decreased By ▼ -0.14 (-1.37%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.02 (-1.64%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق، چاول کا شعبہ ترجیحات میں شامل

  • وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے انڈونیشین سفیر چندرا ورسینانٹو کی ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو ادارہ جاتی روابط کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے اجلاس جلد بلانا شامل ہے۔

بیان کے مطابق یہ اتفاقِ رائے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسنینتو سوکوٹجو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں وفاقی وزیر نے سفیر کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی تجارتی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، جس میں بالخصوص چاول کی برآمدات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے مالی اور تجارتی میکانزم پر فعال طریقے سے کام کررہی ہے جس سے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر قیمتوں میں مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے، اس اقدام کا مقصد پاکستان اپنی مارکیٹ شیئر کو برقرار رکھنے کے ساتھ اس میں اضافہ بھی کرسکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر چاول کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے اور بین الاقوامی معیار کی تسلیم شدہ کوالٹی فراہم کرتا ہے، تاہم انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا سخت مقابلہ بالخصوص بڑے پیداواری ممالک کی حالیہ مداخلتوں کے بعد برآمد کنندگان کے لیے چیلنجز پیدا کررہا ہے۔

دونوں فریقین نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ 2015 میں چاول کی تجارت کے حوالے سے طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مدت 2019 میں ختم ہو گئی تھی، جس کے تحت حکومتوں کے درمیان (جی ٹو جی) سالانہ 10 لاکھ میٹرک ٹن تک چاول کی خریداری کی گنجائش موجود تھی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے نظرثانی شدہ مسودہ پہلے ہی انڈونیشیا کو فراہم کر دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی، تاکہ اس بنیادی اجناس میں طویل المدتی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی جاسکے۔

اسی دوران وزیرِ تجارت نے زرعی برآمدات، بالخصوص کنو کو درپیش مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان انڈونیشیا کی جانب سے امپورٹ کوٹہ (درآمدی کوٹے) کے اجراء کا منتظر ہے تاکہ موسم کے مطابق بلا تعطل برآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں تاخیر کے نتیجے میں کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستانی کنو کے لیے خوراک اور زراعت سے متعلق ٹیسٹنگ کی شرائط میں حالیہ اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جنہیں 8 سے بڑھا کر 24 کردیا گیا ہے۔ اس اقدام سے برآمدی لاگت اور پروسیسنگ کے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس معاملے کے حل کے لئے ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن پہلے ہی اپنے انڈونیشی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اٹھائے گئے مسائل بالخصوص چاول کے شعبے میں تعاون، زرعی مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی سہولیات غوروخوض کے لیے جکارتہ (انڈونیشیا کے دارالحکومت) پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے خوراک کے تحفظ (فوڈ سیکیورٹی)، درآمدات کے ذرائع میں تنوع اور مسابقتی قیمتوں میں انڈونیشیا کی گہری دلچسپی کا بھی تذکرہ کیا۔

دونوں فریقین نے ادارہ جاتی روابط کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے جلد انعقاد کے ساتھ ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے آن لائن (ورچوئل) مشاورت بھی شامل ہے۔

دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو منظم مذاکرات، بروقت فیصلوں اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کریں گے۔

Comments

Comments are closed.