بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے ’تاریخ کا انتقام‘ کے بیان پر پاکستان کی شدید تنقید
- نوجوانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کی ماضی کی جدوجہد سے طاقت حاصل کریں اور سلامتی و اقتصادی شعبوں میں ملک کی قوت بڑھانے کے لیے ’انتقام‘ کے جذبے کو بروئے کار لائیں
پاکستان نے بدھ کے روز بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے، جن میں انہوں نے بھارتی نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ”اپنی تاریخ کا انتقام لیں“ اور ملک کو مضبوط بنائیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دوال نے یہ بیان نئی دہلی میں نوجوانوں سے خطاب کے دوران دیا، اور انہیں بھارت کی ماضی کی جدوجہد سے قوت حاصل کرنے اور سلامتی و اقتصادی شعبوں میں ملک کی طاقت بڑھانے کے لیے ”انتقام“ کے جذبے کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی۔
میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ان بیانات کو “ نفرت پھیلانے چھپے عناصر کی طرف سے آنا زیادہ حیران کن نہیں“ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی بیان بازی خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔
مئی کے تنازع کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب دوال کو کرارا جواب دیا گیا ہے۔
گزشتہ سال جون میں، پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کے قومی سلامتی مشیروں کے اجلاس کے دوران اپنے بھارتی ہم منصب کا موثر جواب دیا تھا۔
اس اجلاس کے دوران، دوال نے ”آپریشن سندور“ کا حوالہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے طور پر دیا اور ایسے الزامات عائد کیے جنہیں پاکستان نے بے بنیاد قرار دیا تھا۔
تاہم لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے مضبوط اور منطقی جواب میں دوال کے دعووں کو ”جھوٹ کا مجموعہ“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے کہا تھا کہ بھارت داخلی مسائل اور پالیسی کی ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کا عادی ہو گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت، دونوں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ہمسایہ ممالک، طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں، خاص طور پر کشمیر کے تنازع کے حوالے سے۔
حالیہ کشیدگی مئی 2025 میں سامنے آئی، جب چار روزہ فوجی تصادم کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہوا۔


Comments