اسپارک پلگ کی درآمد پر کسٹمز کی نئی قیمتیں مقرر
- اسمگلنگ کی روک تھام اور قانونی درآمدات کے فروغ کے لیے قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق رکھی جائیں ، پاسپیڈا کا مطالبہ
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن کراچی نے چین، جاپان، یورپ اور دیگر ممالک سے درآمد کیے جانے والے اسپارک پلگ کی نئی کسٹمز ویلیوز (تخمیناتی قیمتیں) مقرر کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل نے پیر کو ویلیویشن رولنگ نمبر 2032/2026 جاری کر دی ہے۔
گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس (اسپارک پلگ) کی کسٹمز ویلیوز اس سے قبل 2025 کی رولنگ نمبر 1957 کے تحت طے کی گئی تھیں، جسے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن ڈی 25 کے تحت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ویلیویشن کے سامنے چیلنج کیا گیا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل نے مارچ 2025 میں اس معاملے پر نظرثانی کا حکم دیتے ہوئے اسے دوبارہ نئی قیمتوں کے تعین کے لیے ڈائریکٹوریٹ کو بھیج دیا تھا۔
اس حکم کی روشنی میں ڈائریکٹوریٹ نے اسپارک پلگ کی قیمتوں کے ازسرنو تعین کا عمل شروع کیا۔ اس سلسلے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو نوٹس جاری کیے گئے اور ان کے ساتھ تفصیلی مشاورت اور بحث و مباحثہ کیا گیا۔
رولنگ کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان آٹوموبائل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پاسپیڈا) کے نمائندے نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ ویلیوز بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق نہیں ہیں لہٰذا تازہ قیمتیں مارکیٹ کے حالات کے مطابق طے کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز ویلیو زیادہ ہونے کی وجہ سے قانونی درآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جس سے مبینہ طور پر اسمگلنگ کو فروغ مل رہا ہے۔
دوسری جانب انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کے نمائندے نے دلیل دی کہ قیمتوں کا تعین اس میں استعمال ہونے والے مواد کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ اصل پرزہ (اوای ایم) اور عام پرزے کی تیاری کا عمل ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے اسپارک پلگ کی قیمتوں کے تعین کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ اسپارک پلگ کی قیمت برانڈ، ملک، قسم (اریڈیم اور نان اریڈیم)، استعمال اور گاڑی کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے اس لیے موازنہ صرف یکساں خصوصیات والے سامان کے درمیان ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے درآمدی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور غیر معمولی قیمتوں کو نکال کر درست تقابل کیا گیا۔
مزید برآں مقامی مارکیٹ کا سروے بھی کیا گیا، تاکہ تھوک اور خوردہ قیمتوں کا رجحان معلوم کیا جا سکے۔ مارکیٹ سروے نے درآمدی ڈیٹا کی تصدیق کی اور قیمتوں میں کمی بیشی کے رجحان کو واضح کیا۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے کسٹمز ایکٹ کے تحت درآمدی ڈیٹا اور مارکیٹ سروے کی بنیاد پر نئی قیمتیں مقرر کی جائیں۔
رولنگ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ اشیاء کی کسٹمز ویلیو اب کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 25(7) اور 25(9) کے تحت حتمی طور پر مقرر کر دی گئی ہے۔


Comments