ایس ای سی پی نے شفافیت اور ابتدائی لسٹنگ کے فروغ کے لیے رئیٹ ( آر ای آئی ٹی) ضوابط میں ترمیم کر دی
- کمیشن کے مطابق ان ترامیم کے تحت رئیل اسٹیٹ اور اسپیشل پرپز وہیکلز کے شیئرز کی منتقلی کے لیے واضح ٹائم لائنز متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد رئیٹ اسکیموں کی بروقت اور ابتدائی لسٹنگ کو فروغ دینا ہے
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریئٹ) ریگولیشنز 2022 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جن کا مقصد طریقۂ کار کو سادہ بنانا، گورننس کو مضبوط کرنا اور ریئٹ اسکیموں کے آپریشنز میں شفافیت بڑھانا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق ان ترامیم کے تحت رئیل اسٹیٹ اور اسپیشل پرپز وہیکلز کے شیئرز کی منتقلی کے لیے واضح ٹائم لائنز متعارف کرائی گئی ہیں، تاکہ ریئٹ اسکیموں کی بروقت اور ابتدائی لسٹنگ کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں کیپیٹل مارکیٹ کے ایک اثاثہ جاتی زمرے کے طور پر بہتر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
نظرثانی شدہ فریم ورک میں ریئٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے کردار اور ذمہ داریوں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے، مختلف ریئٹ اسٹرکچرز میں ریگولیٹری خلا کو دور کیا گیا ہے، اور شریعت گورننس فریم ورک سے ہم آہنگی کو بہتر بنایا گیا ہے۔
مزید برآں، ٹرسٹ ڈیڈز کی رجسٹریشن اور ریئٹ اسکیموں کی رجسٹریشن کی منظوری سے متعلق طریقۂ کار کو بھی سہل بنا دیا گیا ہے۔
اہم تبدیلیوں میں رئیل اسٹیٹ کی تعریف کو مزید واضح کرنا شامل ہے، تاکہ اس کے غیر فعال اور فعال اجزا کے درمیان امتیاز کیا جا سکے، جبکہ بین الاقوامی بہترین روایات کے مطابق آمدن اور اثاثہ جاتی جانچ (انکم اور ایسیٹ ٹیسٹ) کی شرائط بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق ان اقدامات سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ریئٹ اسکیمیں بنیادی طور پر رئیل اسٹیٹ اثاثوں میں سرمایہ کاری کریں اور انہی سے آمدن حاصل کریں۔
یہ ترامیم وسیع تر مشاورتی عمل کے بعد حتمی شکل دی گئیں۔ اس عمل میں ایک مشاورتی دستاویز کا اجرا، ریئٹ مینجمنٹ کمپنیوں، ٹرسٹیز، بینکوں، میوچل فنڈز، لاء فرمز اور کنسلٹنٹس سمیت متعلقہ فریقین کے ساتھ متعدد بالمشافہ اور ورچوئل اجلاس، مسودہ ترامیم پر مزید مشاورت اور کراچی میں منعقدہ اختتامی سیشن شامل تھے۔
ریئٹ ریگولیشنز، ریئٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ذریعے ریئٹ اسکیموں کے قیام، آپریشن اور انتظام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔
ریئٹ اسٹرکچر کے تحت، ریئٹ مینجمنٹ کمپنی سرمایہ کاروں سے رقوم جمع کر کے انہیں رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کے نتیجے میں یونٹ ہولڈرز کو آمدن پیدا کرنے والی جائیدادوں میں تناسبی ملکیت حاصل ہوتی ہے اور وہ کرایہ جاتی آمدن اور ممکنہ سرمائے کے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق ترمیم شدہ ریئٹ ریگولیشنز کا نوٹیفکیشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔


Comments