یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کا متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز
- سعودی عرب پر پرامن کارروائی کے اعلان کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو جان بوجھ کر گمراہ کرنے کا الزام
یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت نے متحدہ عرب امارات (یواے ای) کے حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں سے فوجی ٹھکانے واپس لینے کے لیے پُرامن آپریشن کا آغاز کردیا ، تاہم علیحدگی پسندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اعلان کے فوراً بعد سعودی طیاروں نے سات فضائی حملے کیے ہیں۔
یمن کے صوبے حضرموت کے گورنر نے اس فوجی اقدام کا اعلان کیا، جو دسمبر سے جاری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کا شاخسانہ ہے۔ یو اے ای کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سینئر عہدیدار عمرو البیض نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے پُرامن آپریشن کا اعلان کر کے عالمی برادری کو گمراہ کیا، جبکہ حقیقت میں چند ہی منٹوں میں فضائی حملے شروع کر دیے گئے۔
سعودی نواز حکومت نے ہوم لینڈ شیلڈ فورسز کو حضرموت میں امن و امان کی بحالی کا حکم دیا ہے، جبکہ ایس ٹی سی کے ترجمان محمد النقیب نے فورسز کو ہائی الرٹ رہنے اور بھرپور جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی بکتر بند گاڑیاں الخشعہ فوجی کیمپ کی طرف بڑھ رہی ہیں جس پر دسمبر میں علیحدگی پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔
دونوں خلیجی قوتوں کے درمیان تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سعودی عرب نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ عدن ایئرپورٹ پر پروازوں کی بندش پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ سعودی سفیر نے الزام لگایا کہ ایس ٹی سی لیڈر عیدروس الزبیدی نے سعودی وفد کے جہاز کو اترنے کی اجازت نہیں دی،جبکہ علیحدگی پسندوں نے اسے سعودی فضائی ناکہ بندی قرار دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.