BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.08%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.51 Decreased By ▼ -0.94 (-0.49%)
FABL 94.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.91 Increased By ▲ 0.81 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.41 Decreased By ▼ -0.22 (-0.62%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.50 Decreased By ▼ -3.41 (-1.5%)
PRL 92.21 Decreased By ▼ -0.81 (-0.87%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.71 Decreased By ▼ -0.10 (-0.42%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

سعودی عرب کا قومی سلامتی سے متعلق انتباہ ، متحدہ عرب امارات کی افواج کو یمن چھوڑنے کا حکم

  • یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی افواج کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں اتحاد نے جنوبی یمن کی بندرگاہ ’مکلا‘ پر فضائی حملہ کیا، جس کا مقصد امارات کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں(ایس ٹی سی) کو ملنے والی فوجی امداد کو روکنا تھا۔

ریاض کی جانب سے ابوظہبی کے خلاف اب تک کی یہ سخت ترین زبان دونوں خلیجی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے امارات پر یمن میں داخلی خلفشار کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو ریاست کے خلاف بغاوت اور فوجی اشتعال انگیزی پر اکسایا ہے۔

کشیدگی کی وجہ اس وقت بنی جب اماراتی بندرگاہ فجیرہ سے دو بحری جہاز سعودی اجازت کے بغیر مکلا پہنچے۔ سعودی اتحاد کے مطابق ان جہازوں نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر کے علیحدگی پسندوں کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔ سعودی میڈیا نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک جہاز سے جنگی سامان اتارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے رشاد العلیمی کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات حوثیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم شراکت دار ہے اور کسی فرد واحد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی ملک کو عرب اتحاد سے نکال دے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب اتوار کو ’اوپیک پلس کا اجلاس ہونے والا ہے۔ سعودی عرب اور امارات دونوں تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک ہیں، لہٰذا ان کے درمیان کوئی بھی اختلاف عالمی سطح پر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ منگل کو اس کشیدگی کے باعث خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

رشاد العلیمی نے تمام بندرگاہوں اور سرحدوں پر 72 گھنٹوں کے لیے نو فلائی زون اور بحری و زمینی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ یمن کا صوبہ حضرموت، جہاں یہ کارروائی ہوئی سعودی عرب کے لیے تاریخی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور سعودی عرب نے پہلے ہی علیحدگی پسندوں کو اس علاقے میں فوجی نقل و حرکت سے خبردار کیا تھا۔

Comments

Comments are closed.