مالی سال 2024-25: ایف بی آر کی ریفنڈ ادائیگیوں میں 2.2 فیصد اضافہ
- ایف بی آر نے یکم جولائی 2024 سے ریفنڈ کے کیسز کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے لیے فیلڈ فارمیشنز میں 25 عہدے کمشنر ریفنڈ کے بنائے
تمام تر اسٹریٹجک تبدیلی، خودکاری، ڈیجیٹلائزیشن اور کمپیوٹرائزڈ ریفنڈ سسٹمز کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری برادری بشمول برآمدکنندگان کو 2024-25 میں صرف 2.2 فیصد زیادہ ریفنڈز ادا کیے جو 2023-24 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں 24-2023 کے اسی عرصے کے مقابلے میں محض 2.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایف بی آر نے یکم جولائی 2024 سے ریفنڈ کے کیسز کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے لیے فیلڈ فارمیشنز میں 25 عہدے کمشنر ریفنڈ کے بنائے۔ اعدادوشمار سے مزید یہ انکشاف ہوا کہ 25-2024 کے دوران براہ راست ٹیکس وصولی میں 27.8 فیصد یا 1,260.9 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جو 24-2023 کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
2024-25 کے دوسرے نصف سال (جولائی تا جون) میں براہِ راست ٹیکس وصولی میں 26.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مجموعی سیلز ٹیکس کی وصولی پورے مالی سال 2024-25 کے دوران 26.4 فیصد یا 814.5 ارب روپے بڑھ گئی، جو 2023-24 کے مقابلے میں ہے۔
اس دوران مقامی سیلز ٹیکس کی وصولی میں 32.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات سے سیلز ٹیکس میں 22.4 فیصد اضافہ ہوا۔
2024-25 کے دوسرے نصف سال (جولائی تا جون) میں سیلز ٹیکس کی مجموعی وصولی میں 27.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس میں گھریلو سیلز ٹیکس 26.7 فیصد اور درآمدات سے سیلز ٹیکس 28.0 فیصد بڑھا۔
مالی سال 2024-25 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی میں 32.8 فیصد اضافہ ہوا، یعنی 189.2 ارب روپے زیادہ جو 2023-24 کے اسی دورانیے کے مقابلے میں ہے۔ 2024-25 کے دوسرے نصف سال (جولائی تا جون) میں ایف ای ڈی کی وصولی میں 34.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی عرصے میں کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں 16.4 فیصد اضافہ ہوا یعنی 180.5 ارب روپے زیادہ اور دوسرے نصف سال میں کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 21.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments