جرمنی 500 سے زائد پھنسے افغانوں کو پاکستان سے منتقل کرے گا
- یہ افغان شہری سابقہ جرمن حکومت کی جانب سے قائم کردہ پناہ گزین اسکیم کے تحت قبول کیے گئے تھے، تاہم مئی میں قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کے اقتدار سنبھالنے اور پروگرام معطل کیے جانے کے بعد سے وہ پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں
جرمن حکومت نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ 535 افغان شہریوں کو اپنے ہاں لے جائے گی جن سے جرمنی میں پناہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم وہ پاکستان میں غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہے ہیں۔
وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے آر این ڈی میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ برلن چاہتا ہے کہ ان کیسز کی کارروائی “دسمبر میں، حتی الامکان” مکمل کر لی جائے تاکہ ان افراد کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دی جا سکے۔
یہ افغان شہری سابقہ جرمن حکومت کی جانب سے قائم کردہ پناہ گزین اسکیم کے تحت قبول کیے گئے تھے، تاہم مئی میں قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کے اقتدار سنبھالنے اور پروگرام معطل کیے جانے کے بعد سے وہ پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت شامل افراد یا تو افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران جرمن مسلح افواج کے ساتھ کام کر چکے تھے، یا پھر 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد انہیں خاص طور پر خطرے سے دوچار سمجھا گیا تھا، جن میں حقوقِ انسانی کے کارکنان، صحافی اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔
پاکستان نے افغان شہریوں کے کیسز نمٹانے کے لیے سال کے اختتام تک کی مہلت مقرر کی تھی، جس کے بعد انہیں واپس افغانستان بھیج دیا جانا تھا۔
ڈوبرنٹ نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں، اور مزید کہا: “ممکن ہے چند کیسز ایسے ہوں جن پر ہمیں نئے سال میں کام کرنا پڑے۔
گزشتہ ہفتے وزارتِ داخلہ نے بتایا تھا کہ اس پروگرام میں شامل 650 افراد کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ انہیں جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ نئی حکومت کے مطابق یہ اب جرمنی کے “مفاد” میں نہیں ہے۔
حکومت نے پاکستان میں موجود افراد کو جرمنی میں آباد ہونے کے دعوے سے دستبردار ہونے کے عوض مالی معاونت کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم نومبر کے وسط تک صرف 62 افراد نے یہ پیشکش قبول کی تھی۔
رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی میں 250 سے زائد تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن اور ہیومن رائٹس واچ شامل ہیں، نے کہا تھا کہ اس پروگرام کے تحت تقریباً 1,800 افغان شہری پاکستان میں غیر یقینی حالت میں پھنسے ہوئے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں جرمنی میں داخلے کی اجازت دی جائے۔


Comments
Comments are closed.