کراچی کے بلڈرز نے بھتے کی مبینہ کال پر شٹر ڈاؤن اور دھرنے کی دھمکی دے دی
- آباد کے چیئرمین حسن بخشی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان کے کم از کم دس ارکان کو بھتہ کی کالیں موصول ہوئی ہیں
کراچی کے بلڈرز اور ڈویلپرز نے بدھ کے روز اپنے کاروبار بند کرنے اور وزیر اعلیٰ سندھ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بیرون ملک سے بھتے کی کالیں موصول ہو رہی ہیں، جن میں دبئی اور ایران کا سراغ لگایا گیا ہے، کال کرنے والے لاکھوں روپے مانگ رہے ہیں۔
آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے کم از کم دس ارکان کو بھتہ خوری کی کالیں موصول ہوئی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 5 ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور تمام کالز دبئی اور ایرانی نمبروں سے کی جا رہی تھیں۔
حسن بخشی نے مزید کہا کہ بھتہ خور تحریری پرچیاں جاری کرتے ہیں اور اگر وصول کنندگان انہیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو وہ ہمارے کاروباری مقامات پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھتہ خور اپنے نام، فون نمبر اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی پرچیوں پر لکھ دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
سیف سٹی کیمروں کو صرف ٹریفک کے ای چالان کے لیے نہیں بلکہ انہیں شہر میں جرائم کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
آباد کے چیئرمین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس میں بلڈرز، ڈیولپرز اور تاجر برادری کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
”بھتہ خوروں اور زمینوں پر قبضہ مافیا نے مؤثر طریقے سے پاکستان کے معاشی انجن کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ان عناصر کو مبینہ طور پر فتنہ الخوارج کی پشت پناہی حاصل ہے۔“
انہوں نے کہا کہ بلڈرز اور تاجروں کی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ بھتہ خور دبئی اور ایرانی نمبروں سے کالز کے ذریعے مطالبات کر رہے تھے۔
آباد کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر ان بھتہ خوروں کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری نہ کیے گئے اور کوئی کارروائی نہ کی گئی تو کاروبار بند کرنے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے جیسے آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
سیف سٹی پراجیکٹ پر سوال کرتے ہوئے حسن بخشی نے کہا کہ شہر بھر میں سیف سٹی کیمرے لگائے گئے تھے لیکن کوئی بھتہ خور گرفتار نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جرائم کو کم کرنے کے لیے سیف سٹی کیمروں کو بھی استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ٹریفک کے ای چالان کے لیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ظلم کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن کراچی کے حالات اس حد سے آگے نکل چکے ہیں۔
دریں اثناء فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چھاپوں کا حوالہ دیتے ہوئے آباد کے چیئرمین نے الزام لگایا کہ ایف بی آر کے اہلکار بلڈرز کے دفاتر پر چھاپے مارتے ہیں، تمام فائلیں قبضے میں لے کر مہینوں تک اپنے پاس رکھتے ہیں، بدلے میں کروڑوں روپے کی رشوت طلب کرتے ہیں۔
آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی نے کہا کہ ایسوسی ایشن ملک کی 72 صنعتیں چلاتی ہے اور بلڈرز کے اثاثے مکمل طور پر خطرے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے کالیں آتی ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، معلومات مانگی جاتی ہیں اور جواب نہ ملنے پر فائرنگ شروع ہو جاتی ہے۔


Comments