BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.62 Increased By ▲ 2.65 (1.37%)
FABL 89.94 Increased By ▲ 0.15 (0.17%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.58 Increased By ▲ 0.61 (3.22%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.97 Increased By ▲ 0.46 (0.53%)
OGDC 322.27 Increased By ▲ 2.31 (0.72%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 16.89 Increased By ▲ 0.22 (1.32%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.29 Increased By ▲ 1.11 (0.49%)
PRL 34.79 Increased By ▲ 0.11 (0.32%)
SNGP 99.45 Increased By ▲ 0.27 (0.27%)
SSGC 27.06 Increased By ▲ 0.46 (1.73%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
دنیا

فائرنگ کے واقعے نے آسٹریلیا کے تین دہائیوں پر محیط اسلحہ کنٹرول نظام پر سوالات اٹھا دیے

  • اس واقعے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگے ہیں کہ آیا موجودہ گن کنٹرول قوانین اب بھی بدلتے ہوئے حالات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں
شائع December 15, 2025 اپ ڈیٹ December 15, 2025 09:36am

1996 میں آسٹریلیا کی تاریخ کی بدترین فائرنگ کے واقعے کے بعد حکومت نے محض 12 دن کے اندر نیم خودکار اسلحے پر پابندی عائد کردی تھی، اسلحہ واپس خریدنے کی اسکیم متعارف کرائی اور لائسنسنگ کا ایسا نظام نافذ کیا جس کے تحت غیر موزوں افراد کو ہتھیار رکھنے سے روکا گیا۔ اس سخت نظام کو دنیا کے مؤثر ترین گن کنٹرول فریم ورکس میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاہم اتوار کے روز سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈی میں ایک یہودی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے نے، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو میں سے ایک مشتبہ شخص بھی مارا گیا، اس نظام پر عوامی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگے ہیں کہ آیا موجودہ گن کنٹرول قوانین اب بھی بدلتے ہوئے حالات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔

آسٹریلیا میں اسلحہ رکھنے کے قوانین کو فی کس بنیاد پر کم ترین گن ہومیسائیڈ ریٹ کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ کے مطابق قانونی طور پر رجسٹرڈ اسلحے کی تعداد گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب یہ چار ملین تک پہنچ چکی ہے، جو 1996 کی کریک ڈاؤن سے پہلے کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

اس بات نے مزید تشویش کو جنم دیا ہے کہ بونڈی حملے میں ملوث مشتبہ افراد میں سے ایک کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس موجود تھا اور اس کے نام پر چھ رجسٹرڈ ہتھیار تھے۔ گن کنٹرول سے وابستہ تنظیموں اور محققین کے مطابق اس سے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھتے ہیں۔

گن کنٹرول آسٹریلیا کے صدر ٹِم کوئن نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ ایسے واقعات یہاں ناقابلِ تصور محسوس ہوتے ہیں، جو موجودہ قوانین کی مضبوطی کا ثبوت ہے، تاہم اس کے باوجود ضروری ہے کہ شواہد کی بنیاد پر یہ جانچا جائے کہ یہ حملہ کیسے ممکن ہوا، اسلحہ کیسے حاصل کیا گیا اور آیا موجودہ قوانین اور نفاذ کا نظام بدلتے ہوئے خطرات اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ کر پا رہا ہے یا نہیں۔

وزیراعظم انتھونی البانیز نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر قانون سازی کے حوالے سے کسی اقدام کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت اس پر ضرور عمل کرے گی۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے بھی ریاستی پارلیمان کو طلب کر کے اسلحہ قوانین میں تیزی سے تبدیلیوں پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔

ریاستی پولیس کمشنر کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت مشتبہ شخص کے پاس موجود لائسنس اسے یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتا تھا۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسلحہ لائسنسوں کے آڈٹ کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ تاحیات بنیاد پر لائسنس کا اجرا اب مؤثر نہیں رہا۔

ماہرین کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز میں اسلحہ لائسنس کے لیے حقیقی ضرورت ثابت کرنا لازم ہے اور بونڈی واقعے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ فراہم کی گئی وجوہات اور رجسٹرڈ اسلحے کی نوعیت کس حد تک موزوں تھیں۔

Comments

200 حروف