فائرنگ کے واقعے نے آسٹریلیا کے تین دہائیوں پر محیط اسلحہ کنٹرول نظام پر سوالات اٹھا دیے
- اس واقعے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگے ہیں کہ آیا موجودہ گن کنٹرول قوانین اب بھی بدلتے ہوئے حالات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں
1996 میں آسٹریلیا کی تاریخ کی بدترین فائرنگ کے واقعے کے بعد حکومت نے محض 12 دن کے اندر نیم خودکار اسلحے پر پابندی عائد کردی تھی، اسلحہ واپس خریدنے کی اسکیم متعارف کرائی اور لائسنسنگ کا ایسا نظام نافذ کیا جس کے تحت غیر موزوں افراد کو ہتھیار رکھنے سے روکا گیا۔ اس سخت نظام کو دنیا کے مؤثر ترین گن کنٹرول فریم ورکس میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم اتوار کے روز سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈی میں ایک یہودی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے نے، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو میں سے ایک مشتبہ شخص بھی مارا گیا، اس نظام پر عوامی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگے ہیں کہ آیا موجودہ گن کنٹرول قوانین اب بھی بدلتے ہوئے حالات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
آسٹریلیا میں اسلحہ رکھنے کے قوانین کو فی کس بنیاد پر کم ترین گن ہومیسائیڈ ریٹ کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ کے مطابق قانونی طور پر رجسٹرڈ اسلحے کی تعداد گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب یہ چار ملین تک پہنچ چکی ہے، جو 1996 کی کریک ڈاؤن سے پہلے کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
اس بات نے مزید تشویش کو جنم دیا ہے کہ بونڈی حملے میں ملوث مشتبہ افراد میں سے ایک کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس موجود تھا اور اس کے نام پر چھ رجسٹرڈ ہتھیار تھے۔ گن کنٹرول سے وابستہ تنظیموں اور محققین کے مطابق اس سے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھتے ہیں۔
گن کنٹرول آسٹریلیا کے صدر ٹِم کوئن نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ ایسے واقعات یہاں ناقابلِ تصور محسوس ہوتے ہیں، جو موجودہ قوانین کی مضبوطی کا ثبوت ہے، تاہم اس کے باوجود ضروری ہے کہ شواہد کی بنیاد پر یہ جانچا جائے کہ یہ حملہ کیسے ممکن ہوا، اسلحہ کیسے حاصل کیا گیا اور آیا موجودہ قوانین اور نفاذ کا نظام بدلتے ہوئے خطرات اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ کر پا رہا ہے یا نہیں۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر قانون سازی کے حوالے سے کسی اقدام کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت اس پر ضرور عمل کرے گی۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے بھی ریاستی پارلیمان کو طلب کر کے اسلحہ قوانین میں تیزی سے تبدیلیوں پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔
ریاستی پولیس کمشنر کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت مشتبہ شخص کے پاس موجود لائسنس اسے یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتا تھا۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسلحہ لائسنسوں کے آڈٹ کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ تاحیات بنیاد پر لائسنس کا اجرا اب مؤثر نہیں رہا۔
ماہرین کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز میں اسلحہ لائسنس کے لیے حقیقی ضرورت ثابت کرنا لازم ہے اور بونڈی واقعے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ فراہم کی گئی وجوہات اور رجسٹرڈ اسلحے کی نوعیت کس حد تک موزوں تھیں۔


Comments