آئی ایم ایف کے ساختی اہداف نئی شرائط نہیں، وزارت خزانہ
- یہ وضاحت ان تبصروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ان 11 ساختی اہداف کو نئی شرائط قرار دیا جا رہا تھا۔
وزارت خزانہ نے اتوار کے روز وضاحت کی ہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت جن ساختی اہداف کو حال ہی میں اجاگر کیا گیا ہے وہ کسی نئی شرائط کا حصہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے مرحلہ وار اور درمیانی مدت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔
یہ وضاحت ان تبصروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ان 11 ساختی اہداف کو نئی شرائط قرار دیا جا رہا تھا۔ فنانس ڈویژن کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی جانب سے پہلے سے شروع کی گئی اصلاحات پر مبنی ہیں اور انہیں مرحلہ وار، قدم بہ قدم انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ پروگرام کے پالیسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے دوسرے جائزے کے بعد حتمی شکل پانے والا میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز پہلے سے موجود میمورنڈم کی تکمیل ہے، جو اصلاحاتی عمل کے تسلسل اور گہرائی کو یقینی بناتا ہے۔
بیان کے مطابق یہ ساختی اہداف مالیاتی نظم و نسق، طرزِ حکمرانی، مالیاتی منڈیاں، سرکاری ادارے، توانائی، تجارت اور کارپوریٹ ریگولیشن سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اہم اصلاحات میں سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کے بعد سرکاری ملازمین کے اثاثوں کے گوشواروں میں شفافیت بڑھانا، قومی احتساب بیورو کی عملی کارکردگی کو مضبوط بنانا اور صوبائی انسدادِ بدعنوانی اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک کے تحت صوبائی اداروں کو مالیاتی معلومات تک رسائی دی جا رہی ہے۔
حکومت ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے سرحد پار ادائیگیوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 25 میں ترسیلات میں 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 26 میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں اصلاحات کے تحت مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کا مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔
ایف بی آر کے لیے جامع اصلاحاتی روڈ میپ پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس میں ٹیکس پالیسی آفس کو فعال بنانا، تعمیل کے خطرات کے نظم و نسق کو بہتر بنانا اور 3 سے 5 سالہ درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی تیار کرنا شامل ہے۔ توانائی اور سرکاری اداروں کے شعبے میں منتخب ڈسکوز کی نجکاری، حیسکو اور سیپکو میں نجی شعبے کی شمولیت کی شرائط کو حتمی شکل دینا اور پبلک سروس آبلیگیشن معاہدوں پر دستخط شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کی دوسری جائزہ رپورٹ کے مطابق 13 میں سے 8 سابقہ اہداف پورے کر لیے گئے ہیں، جبکہ بعض اہداف اصلاحاتی عمل اور حالیہ سیلاب کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے۔ حکام نے ان اہداف کے لیے نئی تاریخوں کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ مجموعی پیش رفت درست سمت میں جاری ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مرحلہ وار طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اصلاحات پائیدار ہوں اور پاکستان کی درمیانی مدت کی معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ رہیں۔


Comments