جے ایف 17 طیاروں کی انڈونیشیائی صدر کو فضائی سلامی
- یہ خیرسگالی کا اقدام دونوں ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا اظہار تھا
پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے پیر کے روز انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے طیارے کو فضائی سلام پیش کیا اور انہیں خصوصی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ یہ خیرسگالی کا اقدام دونوں ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا اظہار تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق پاک فضائیہ کے چھ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے صدر انڈونیشیا کے خصوصی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی اپنے حصار میں لے لیا اور ایک منظم فارمیشن میں پرواز کرتے ہوئے انہیں روایتی اور باوقار انداز میں خوش آمدید کہا۔ حکام نے بتایا کہ یہ فضائی استقبال پاکستان کی اس روایت کا حصہ ہے جس کے تحت دوست ممالک کے رہنماؤں کو خصوصی اعزاز دیا جاتا ہے۔
انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے پاک فضائیہ، پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے ملنے والے گرمجوش استقبال پر خصوصی تشکر کا اظہار کیا۔ حکام کے مطابق یہ فضائی سلام دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد، احترام اور دیرینہ دوستی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کے سربراہان کو پاکستانی فضائی حدود میں داخلے کے موقع پر فضائی سلام پیش کرنا پاکستان کے خیرسگالی، تعاون اور مضبوط سفارتی روابط کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
صدر پرابووو سوبیانتو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں ان کا استقبال نور خان ائیر بیس پر وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے کیا۔ اس موقع پر بچوں نے پھول پیش کیے، گارڈ آف آنر دیا گیا اور اکیس توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں صدر پرابووو سوبیانتو کی میزبانی کر کے خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور ثقافتی رشتوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دیرپا شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔
انڈونیشیا کے صدر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں اور یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران تجارت، دفاع، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں جن سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ حکام کے مطابق یہ دورہ 2018 کے بعد کسی بھی انڈونیشیائی صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے، جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صدر پرابووو سوبیانتو کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات بھی طے ہے جس میں دفاعی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں دوطرفہ تجارت بڑھ کر 4.7 ارب ڈالر ہو گئی جو گزشتہ مالی سال کے 3.36 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ پاکستان سے انڈونیشیا کو کپاس، اجناس اور زرعی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں جبکہ انڈونیشیا پاکستان کو پام آئل اور کوئلہ فراہم کرتا ہے۔
2013 کے انڈونیشیا پاکستان پریفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ کے بعد تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک اب اس معاہدے کو مکمل فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں تبدیل کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ زراعت، توانائی اور صنعت جیسے شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments