بنگلہ دیش، طلبہ رہنمائوں کو مقبولیت ووٹ میں تبدیل کرنےمیں مشکلات کا سامنا
- این سی پی نے ملک کو دہائیوں سے جاری خاندانی سیاست اور دو بڑی جماعتوں کی اجارہ داری سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا
بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے طلبہ رہنماؤں نے جب اس سال نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنائی تو ہزاروں لوگ ان کے جلسوں میں اُمڈ آئے۔ لیکن انتخابات قریب آتے ہی یہ جماعت اپنی عوامی مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
این سی پی نے ملک کو دہائیوں سے جاری خاندانی سیاست اور دو بڑی جماعتوں کی اجارہ داری سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا، مگر پارٹی کو ایسے مضبوط سیاسی حریفوں کا سامنا ہے جن کے پاس وسیع تنظیمی ڈھانچے اور وسائل موجود ہیں۔ این سی پی کے سربراہ ناہید اسلام، جو گزشتہ سال کے پرتشدد احتجاج میں نمایاں رہے اور بعد ازاں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی نگران حکومت میں شامل ہوئے، اعتراف کرتے ہیں کہ تنظیم کمزور ہے کیونکہ اسے مستحکم ہونے کے لیے وقت نہیں ملا۔
امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر کے سروے کے مطابق این سی پی 6 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت 30 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ جماعتِ اسلامی 26 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ این سی پی اہم سماجی مسائل—خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق—پر واضح مؤقف اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہے، جس سے عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے انتخابات میں ایک بھی نشست نہ جیت پانا بھی پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ دوسری جانب، حسینہ واجد کی عوامی لیگ—جس پر اس وقت الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی ہے—نے خبردار کیا ہے کہ پابندی نہ ہٹائی گئی تو ملک میں بدامنی پھیل سکتی ہے، جو ٹیکسٹائل کے بڑے شعبے کے لیے خطرہ ہے۔
این سی پی اس وقت کمزور تنظیمی ڈھانچے، ناکافی فنڈنگ اور مبہم پالیسی مؤقف جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق وہ بی این پی اور جماعتِ اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ اتحاد سے پارٹی کی انقلابی شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔
فنڈنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ کارکن چندوں اور خود کے محدود وسائل پر انحصار کر رہے ہیں۔ کچھ امیدوار گاؤں گاؤں جا کر ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ این سی پی رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات بھی لگے ہیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
اس کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس جماعت کی حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ اسے روایتی سیاسی ڈھانچے سے ہٹ کر ایک نیا راستہ سمجھتے ہیں۔ این سی پی نے عام شہریوں میں سے امیدوار چننے کے لیے ملک گیر انٹرویوز بھی کیے، جن میں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ فوری انتخابی نتائج سے آگے دیکھ رہی ہے اور طویل مدتی ادارہ جاتی اصلاحات کی حامی ہے۔ ان کے مطابق جیت ہو یا ہار، انتخابات میں حصہ لے کر وہ ملک کی سیاست میں ایک نئی مثال قائم کر رہے ہیں۔


Comments
Comments are closed.