BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

روس سے امن معاہدہ براعظم کی سلامتی کمزور کر سکتا ہے، یورپ کو خوف

  • یورپی رہنماؤں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ امریکہ، جو نیٹو میں ان کا روایتی محافظ ہے، مستقبل میں روس کے ساتھ معاشی شراکت داری بڑھا سکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

یورپی ممالک میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی تازہ کوشش بالآخر ایسی ڈیل پر منتج ہوسکتی ہے جو روس کو نہ تو کمزور کرے اور نہ ہی اس کے خلاف مؤثر سزا کا باعث بنے، جس سے براعظم کی سلامتی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یورپی رہنماؤں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ امریکہ، جو نیٹو میں ان کا روایتی محافظ ہے، مستقبل میں روس کے ساتھ معاشی شراکت داری بڑھا سکتا ہے ، ایک ایسا منظرنامہ جسے یورپ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

اگرچہ امریکہ کے پیش کردہ 28 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصوں کو یوکرین اور یورپی ممالک نے مسترد کروانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم یورپی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں براعظم کے لیے سنگین خطرات موجود رہیں گے۔ یورپ کی اصل کمزوری اس کے پاس ”ہارڈ پاور“ کی کمی ہے، جس کے باعث وہ مذاکرات پر اثرانداز ہونے سے قاصر ہے۔ یورپی نمائندے نہ تو فلوریڈا میں ہونے والی امریکہ۔یوکرین بات چیت میں شریک تھے اور نہ ہی وہ اس ہفتے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ماسکو میں ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات پر کوئی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپی قیادت اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر ہونے والی کوئی ممکنہ ڈیل اچھی نہیں ہوگی۔ یورپ کو خدشہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں روس کو قبضہ شدہ یوکرینی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو پیوٹن مزید جارحیت پر اکسائے جائیں گے۔ روسی دعووں کو رد نہ کرنے اور ڈونباس کے باقی علاقوں سے متعلق امریکی لچک نے بھی یورپی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یورپی حکام اس بات پر بھی مضطرب ہیں کہ روس کو عالمی معیشت میں دوبارہ جگہ دینے سے اس کی فوجی مشینری مضبوط ہوگی، جو مستقبل میں کسی نئی جارحیت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یورپی یونین اب تک روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے پر متفق نہیں ہوسکی، حالانکہ یہ ایک بڑی سودے بازی ثابت ہوسکتی تھی۔

فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں چند ممالک نے یوکرین کے لیے جنگ کے بعد سکیورٹی ضمانتوں کے تحت ایک ’ری ایشورنس فورس‘ کی تجویز دی ہے، مگر اس کی افادیت محدود ہوگی اور یہ بھی امریکی حمایت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ آج اس کمزوری کی قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے برسوں تک دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری نہ کرکے پیدا کی۔ نتیجتاً وہ ایک ایسے بحران میں میز پر موجود نہیں جس کا براہ راست اثر اس کی اپنی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.