970 ملین ڈالر کا سوشل پروٹیکشن پروگرام ری اسٹرکچرنگ کیلئے تیار
- اس عمل کا مقصد پروگرام کو عالمی بینک کے نئے کارپوریٹ اسکورکارڈ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے
پاکستان کے بڑے سماجی تحفظ پروگرام کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر ایس پی) جس کی مالیت 970 ملین امریکی ڈالر ہے، میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے، کیونکہ عالمی بینک نے پروگرام کی دوسری ری اسٹرکچرنگ کی منظوری دے دی ہے۔ اس عمل کا مقصد پروگرام کو عالمی بینک کے نئے کارپوریٹ اسکورکارڈ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور سماجی تحفظ کے نیٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی رپورٹنگ کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ری اسٹرکچرنگ کے تحت پروگرام کے نتائج کے فریم ورک کو فرد کی سطح تک منتقل کیا جائے گا، جس میں فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیل صنف اور عمر (خصوصاً نوجوانوں) کے مطابق درج کی جائے گی۔ یہ تبدیلیاں عالمی بینک کی مالی سال 2024 تا 2030 کارپوریٹ اسکورکارڈ حکمتِ عملی کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ان ترامیم سے نتائج میں ہم آہنگی پیدا ہوگی، ڈیٹا کے تجزیے میں بہتری آئے گی اور منصوبے کی رپورٹنگ عالمی بینک کے کارپوریٹ اہداف سے مطابقت اختیار کرے گی، جن میں 2030 تک 50 کروڑ غریب اور کمزور افراد اور 25 کروڑ خواتین تک سماجی تحفظ کے پروگراموں کی رسائی شامل ہے۔ ری اسٹرکچرنگ کے ذریعے نتائج کے فریم ورک کو بہتر بنا کر پروگرام عالمی بینک کی رپورٹنگ ضروریات کو زیادہ درست طریقے سے پورا کرے گا، جس سے فائدہ اٹھانے والوں کی کم گنتی جیسے مسائل بھی ختم ہوں گے اور شفافیت بڑھے گی۔
بی آئی ایس پی کے تحت چلنے والا یہ پروگرام اپنی چار سالہ کارکردگی کے دوران مضبوط پیش رفت دکھا چکا ہے۔ عالمی بینک کے ریکارڈ کے مطابق اب تک 704.44 ملین ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں، جو کُل رقم کا 73 فیصد ہے۔ پروگرام کی کسی آڈٹ رپورٹ میں تاخیر یا بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں ہوئی، جب کہ مالیاتی نظم و نسق اور پروکیورمنٹ دونوں کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ مجموعی منصوبہ جاتی خطرہ بھی معتدل سمجھا جاتا ہے۔
یہ پروگرام مارچ 2021 میں منظور ہوا تھا اور 2024 میں اضافی مالی معاونت کے ساتھ اس کی گنجائش مزید بڑھائی گئی۔ اس کا مقصد پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور معاشی و موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں مزاحمت بڑھانا ہے۔
قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری کے تحت 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھرانوں کی سروے معلومات کو تازہ کیا جا چکا ہے، جب کہ تعلیم اور غذائی معاونت کے پروگراموں کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا گیا ہے۔ تعلیم وظیفہ پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد بچے اور نشوونما پروگرام میں 36 لاکھ سے زیادہ مائیں اور بچے شامل ہو چکے ہیں۔
بی آئی ایس پی کی ادارہ جاتی کارکردگی کو مختلف جائزہ مشن مسلسل سراہتے رہے ہیں، جن میں ڈیٹا مینجمنٹ، شکایات کے ازالے اور وفاقی و صوبائی تعاون کے شعبوں میں پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایک نیا ہائبرڈ سماجی تحفظ منصوبہ بھی ابتدائی مراحل میں ہے، جسے جائزہ مکمل ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے گا۔
30 جون 2027 کی اختتامی تاریخ کے ساتھ پروگرام اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں عالمی بینک کا کہنا ہے کہ رپورٹنگ کو مؤثر بنانے اور فائدہ اٹھانے والوں کی درست گنتی یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی تبدیلیاں شفافیت، موازنہ اور کارپوریٹ احتساب میں واضح بہتری لائیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.