BR100 Increased By (1.01%)
BR30 Increased By (1.45%)
KSE100 Increased By (0.51%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.24 Increased By ▲ 0.25 (0.74%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 21.00 Increased By ▲ 0.16 (0.77%)
DGKC 197.50 Increased By ▲ 4.53 (2.35%)
FABL 89.68 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 53.90 Increased By ▲ 1.07 (2.03%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.75 Increased By ▲ 0.78 (4.11%)
HBL 286.75 Increased By ▲ 1.25 (0.44%)
HUBC 215.66 Increased By ▲ 1.28 (0.6%)
HUMNL 10.99 Increased By ▲ 0.11 (1.01%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.48 Decreased By ▼ -0.41 (-1.47%)
MLCF 87.89 Increased By ▲ 1.38 (1.6%)
OGDC 324.89 Increased By ▲ 4.93 (1.54%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 17.29 Increased By ▲ 0.62 (3.72%)
PIOC 270.70 Increased By ▲ 4.64 (1.74%)
PPL 232.80 Increased By ▲ 4.62 (2.02%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.60 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
SSGC 27.14 Increased By ▲ 0.54 (2.03%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.26 (3.14%)
TPLP 8.76 Increased By ▲ 0.54 (6.57%)
TRG 71.60 Increased By ▲ 1.89 (2.71%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

افغان طالبان سرحد پار حملوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کا مسئلہ افغان عوام کے ساتھ نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، سینئر صحافیوں سے گفتگو
شائع November 29, 2025 اپ ڈیٹ November 29, 2025 04:45pm

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان حکومت نے دہشت گردوں کو سرحد پار حملے کرنے کی سہولت فراہم کر کے خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ سرحد پار سے سیاسی دہشت گردی کے جرائم کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے اور پاکستان کا مسئلہ افغان عوام کے ساتھ نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈر فینس تب ہی مکمل مؤثر ہو سکتی ہے جب اسے مضبوط آبزرویشن اور فائر کور کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سرحدی انتظام دونوں ممالک کے اشتراک سے کیا جاتا ہے، لیکن افغانستان میں مؤثر انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں۔

انہوں نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی غیر متزلزل کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بلا امتیاز آپریشنز کے ذریعے دشمن کے نیٹ ورکس کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشنل اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 4 نومبر سے اب تک 4,910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں 206 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 67,023 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 آپریشنز شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں 1,873 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 136 افراد افغانستان سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال مجموعی طور پر 4,729 دہشت گردانہ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 3,357 خیبر پختونخوا، 1,346 بلوچستان اور باقی ملک میں 26 واقعات شامل ہیں۔

بارڈر چیلنجز

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبر پختونخوا میں 1,229 کلومیٹر طویل سرحد کی مشکلات کو تسلیم کیا جہاں 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں، کئی مقامات پر سرحدی پوسٹیں آپس میں 20 سے 25 کلومیٹر دور ہیں۔ انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے جعلی پروپیگنڈا کا بھی تذکرہ کیا اور وضاحت کی کہ پیچیدہ جغرافیائی عوامل اور تقسیم شدہ سرحدی دیہات سرحد پار نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کی مشکل میں اضافہ کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر قانونی تجارت اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے درمیان اہم تعلق کو اجاگر کیا اور سرحد پار اسمگلنگ اور غیر کسٹم شدہ گاڑیوں کی موجودگی کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے صوبے میں لاکھوں غیر کسٹم شدہ (این سی پی ) گاڑیاں گردش کر رہی ہیں، یہ روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

انہوں نے کہا کہ یہ این سی پی گاڑیاں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں، خاص طور پر خودکش حملوں میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔

فوجی افسر نے بتایا کہ ایران سے ڈیزل کی اسمگلنگ دہشت گردی کیلئے اہم فنڈنگ سورس ہے۔ یہ رقم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ یکجہتی کمیٹ (بی وائی سی) جیسے بھارتی حمایت یافتہ کو جاتی تھی۔

کریک ڈاؤن سے پہلے یومیہ تقریباً 20.5 ملین لٹر ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی۔ کریک ڈاون کے بعد یہ مقدار کم ہوکر ہ 2.7 ملین لیٹر تک رہ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے 27 اضلاع کو اب پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے، جو صوبے کا تقریباً 86 فیصد حصہ بنتا ہے۔ سیکیورٹی ادارے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر امن کی بحالی کیلئے کام کر رہے ہیں۔


افغان طالبان کے وعدے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز


ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے پر پاکستان کا مؤقف بہت واضح ہے۔ افغان طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر وہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہ سکے۔ افغانستان میں اب بھی القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے اور انہیں اسلحہ و فنڈنگ بھی وہیں سے ملتی ہے، جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان کو ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے، مگر ان ثبوتوں کو نظر انداز کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، پاکستان کے اس مؤقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا دعویٰ ہے کہ فتنۂ الخوارج کے دہشت گرد پاکستانی ہیں، کہا گیا یہ ہجرت کرکے آئے ہیں، ہمارے مہمان ہیں۔ اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم ان کو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ سیگار رپورٹ کے مطابق امریکا 7.2 بلین ڈالرز کا اسلحہ چھوڑ کر گیا، افغان رجیم پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکی ہے۔ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اور حکومت قائم ہونی چاہیے تھی، مگر آج بھی وہاں غیرریاستی عناصر کو پالا جا رہا ہے، جو پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان رجیم افغانوں کی نمائندہ نہیں ہے، افغان طالبان رجیم تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتی، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آڑ نے کہا کہ ہمارا افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تجارت کا مسئلہ سیکیورٹی اور عوام کے تحفظ سے جڑا ہے۔ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے۔


Comments

Comments are closed.