BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.53%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

اوپیک پلس اجلاس پر نظریں،خام تیل کی قیمتیں مستحکم

  • برینٹ فیوچر 63.34 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہے
شائع اپ ڈیٹ

برینٹ خام تیل کے فیوچر جمعے کے روز تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہے کیونکہ سرمایہ کار روس یوکرین امن مذاکرات کی پیش رفت اور اتوار کو اوپیک پلس کے اجلاس کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں تیل کی فراہمی میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق اشارے ملنے کی توقع ہے جو تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

فرنٹ منتھ برینٹ فیوچر، جن کی میعاد جمعے کو ختم ہو رہی ہے، 63.34 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہے، جس میں جمعرات کو 21 سینٹ کا اضافہ ہوا تھا۔ فروری کا کنٹریکٹ 62.85 ڈالر فی بیرل پر رہا جو 2 سینٹ کمی ظاہر کرتا ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 59.00 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جو 35 سینٹ یا 0.60 فیصد اضافہ ہے۔ امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تعطیل کے باعث جمعرات کو کوئی سیٹلمنٹ نہیں ہوئی۔

دونوں کنٹریکٹس مسلسل چوتھے ماہانہ نقصان کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو 2023 کے بعد طویل ترین مندی کا سلسلہ ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی سپلائی ہے۔ سرمایہ کار اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو روسی تیل پر مغربی پابندیاں اٹھ سکتی ہیں، جس سے عالمی سپلائی میں اضافہ ہو کر قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان زیر بحث امن مسودہ مستقبل میں معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو روس جنگ جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اگلے ہفتے ماسکو کا دورہ کریں گے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین اور امریکہ کے وفود اس ہفتے ملاقات کریں گے تاکہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کی روشنی میں امن اور سلامتی کی ضمانتوں کا فارمولا طے کیا جا سکے۔

اوپیک پلس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر پیداوار کی سطح کو برقرار رکھا جائے گا اور رکن ممالک کی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت جانچنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار بھی منظور کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی امید پر بھی تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا ہے کیونکہ یہ معاشی سرگرمیوں اور تیل کی طلب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں تیل کے رِگز کی تعداد چار سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے سے بھی قیمتوں کو کچھ سہارا حاصل ہوا ہے۔

Comments

Comments are closed.