روش پاور پلانٹ کے مستقبل پر نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی غیر یقینی صورتحال کا شکار
- کمپنی کو اس بات کا واضح لائحہ عمل درکار ہے کہ پلانٹ کے حوالے سے آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں، کیونکہ مسلسل مالی اخراجات اور پالیسی ابہام ادارے کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، ذرائع
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ( این پی پی ایم سی ایل) ایک پیچیدہ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جو 450 میگاواٹ کے روش پاور پلانٹ کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کو اس بات کا واضح لائحہ عمل درکار ہے کہ پلانٹ کے حوالے سے آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں، کیونکہ مسلسل مالی اخراجات اور پالیسی ابہام ادارے کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
مذاکراتی تصفیہ معاہدے کے تحت حکومت نے یہ پاور پلانٹ سابق وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ معاہدے کے مطابق پلانٹ بوٹ بنیاد پر قائم تھا اور اسے حکومتِ پاکستان یا اس کے نامزد ادارے کو ایک امریکی ڈالر کے عوض منتقل کیا جانا تھا، جس کی ادائیگی موجودہ شرح تبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنی کو قبل از وقت معاہدہ ختم ہونے پر 5.5 ارب روپے اور پلانٹ کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 2.8 ارب روپے بھی ادا کیے جانے تھے۔
ذرائع کے مطابق این پی پی ایم سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 17 اکتوبر 2025 کو ہونے والے 103ویں اجلاس میں روش پاور پلانٹ کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی پر غور کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم جنوری سے 30 جون 2025 تک پلانٹ کو محفوظ حالت میں رکھنے کے لیے 563.88 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ یکم جولائی سے 31 دسمبر 2025 تک کے لیے 368.83 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حکومت کی ہدایات پر کیے گئے اخراجات تاحال واپس نہیں کیے گئے۔
بورڈ کو آگاہ کیا گیا کہ پلانٹ کی ویلیوایشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور زمین، عمارت اور مشینری کی ملکیت روش پاور سے این پی پی ایم سی ایل کو منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، جو نومبر 2025 کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں بورڈ نے فیصلہ کیا کہ 31 دسمبر 2025 کے بعد مزید اخراجات کرنا مالی لحاظ سے مناسب نہیں۔
بورڈ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ پاور ڈویژن سے وضاحت حاصل کی جائے کہ پلانٹ کی فروخت یا تصفیہ نجکاری کمیشن کے ذریعے کیا جائے گا یا این پی پی ایم سی ایل خود کرے گی۔ قانونی رائے کے مطابق فروخت صرف نجکاری کمیشن ہی کر سکتا ہے، الا یہ کہ وہ این پی پی ایم سی ایل کو استثنا دے۔
نجکاری آرڈیننس 2000 کی شق 2(i) کے مطابق کسی بھی سرکاری اثاثے کی فروخت نجکاری کے زمرے میں آتی ہے، سوائے اس کے کہ اس کی مالیت مقررہ حد سے کم ہو یا کمیشن اسے مستثنیٰ قرار دے۔ لہٰذا روش پاور پلانٹ کی کسی بھی فروخت کے لیے نجکاری کمیشن کی منظوری ناگزیر ہے۔
این پی پی ایم سی ایل نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر فروخت میں تاخیر ہوئی تو پلانٹ کی دیکھ بھال اور آپریشن کے اخراجات جاری رکھنے پڑیں گے۔ اسی دوران این ٹی ڈی سی اور این جی سی کی جانب سے روش پاور پلانٹ کے جنریٹرز کو گرڈ اسٹیبلٹی کے لیے بطور سنکرونس کنڈینسر استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، جس کی تصدیق کے لیے خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
کمپنی نے حکومت سے فوری اور واضح ہدایات طلب کی ہیں تاکہ طریقہ کار طے کیا جا سکے اور مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.