ویتنام میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی
- شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آنے والے بدترین سیلاب نے تباہی کی نئی حدیں قائم کر دیں
ویتنام میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آنے والے بدترین سیلاب نے تباہی کی نئی حدیں قائم کر دی ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے جبکہ 12 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ وزارتِ ماحولیات کے مطابق جنوبی وسطی ویتنام میں اکتوبر کے اواخر سے وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث متعدد سیاحتی اور رہائشی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ساحلی شہر نہا ٹرانگ کے کئی حصے مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے جبکہ دالَت کے اطراف پہاڑی راستوں پر مہلک لینڈ سلائیڈز نے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ڈاک لاک میں ہزاروں گھر سیلاب میں ڈوب چکے ہیں۔ مقامی کسان ماچ وان سی نے بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ دو راتیں چھت پر محصور رہے اور ان کا پورا محلہ کیچڑ میں دفن ہو گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 نومبر کے بعد سے 60 سے زائد ہلاکتیں اسی صوبے میں ہوئیں جبکہ چار کمیونز اب بھی پانی میں گھری ہوئی ہیں۔
سیلاب کے باعث ڈاک لاک اور دیگر چار صوبوں میں 80 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی رقبہ تباہ ہو چکا ہے اور 32 لاکھ سے زائد مویشی و پولٹری ہلاک یا بہہ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک اور ضروری سامان گرایا جا رہا ہے جبکہ ہزاروں اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق سیلاب سے پانچ صوبوں میں تقریباً 343 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ کئی شاہراہیں اور ریلوے لائنیں بند ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد صارفین اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ویتنام میں شدید موسم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.