BR100 Increased By (0.65%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.51 Increased By ▲ 1.01 (0.35%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.78 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
MLCF 87.24 Increased By ▲ 0.73 (0.84%)
OGDC 322.20 Increased By ▲ 2.24 (0.7%)
PAEL 39.84 Increased By ▲ 0.42 (1.07%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.75 Increased By ▲ 1.57 (0.69%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.61 Increased By ▲ 0.33 (3.99%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)
کھیل

پرتھ ٹیسٹ، ایک صدی میں سب سے مختصر ایشز میچ، کرکٹ آسٹریلیا کو بھاری مالی نقصان

  • دو دن پر مشتمل اس میچ میں مجموعی طور پر 847 گیندیں کھیلی گئیں، یہ ایشز کی تاریخ میں تیسرے سب سے مختصر ٹیسٹ کا اعزاز رکھتا ہے
شائع November 23, 2025 اپ ڈیٹ November 23, 2025 01:55pm

پرتھ میں کھیلاجانے والا ایشز ٹیسٹ تاریخ میں آسٹریلیا میں سب سے مختصر ایشز میچ کے طور پر درج ہو گیا، جو صرف دو دنوں میں ختم ہو گیا۔ یہ میچ مجموعی طور پر 847 گیندوں پر مشتمل تھا اور ایشز کی تاریخ میں تیسرے سب سے مختصر ٹیسٹ کا اعزاز رکھتا ہے۔ انگلینڈ میں 1888 کے سیریز کے دو میچ اس سے بھی کم گیندوں پر ختم ہوئے تھے، اولڈ ٹریفورڈ میں 788 اور لارڈز میں 792 گیندوں پر۔ آسٹریلیا میں سب سے مختصر ٹیسٹ 1894/95 میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا جو 911 گیندوں پر ختم ہوا۔

انگلینڈ کی بیٹنگ پوری میچ میں مشکلات کا شکار رہی اور دو اننگز میں صرف 405 گیندوں کا سامنا کیا، جو کسی بھی ایشز ٹیسٹ میں ان کی تیسرے سب سے مختصر بیٹنگ ریکارڈ کی نمائندگی کرتا ہے۔ صرف 1904 میں ایم سی جی اور 1888 میں لارڈز کے میچ اس سے کم گیندوں پر ختم ہوئے تھے۔

آسٹریلیا نے 205 رنز کا ہدف صرف 28.2 اوورز میں مکمل کیا، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 200 یا اس سے زیادہ رنز کے سب سے تیز کامیاب چیس کے طور پر ریکارڈ ہوا، جو اوسطاً 7.23 رنز فی اوور بنتا ہے۔

تاہم، میچ کے جلد ختم ہونے نے کرکٹ آسٹریلیا پر مالی اثرات مرتب کیے ہیں۔ تیسرے اور چوتھے دن کی ٹکٹیں واپس کرنی پڑیں، جس سے کم از کم 2 ملین آسٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ کچھ رپورٹس میں 3 ملین ڈالر تک کا تخمینہ لگایا گیا۔ براڈکاسٹرز کو بھی کم نشریاتی وقت اور کم اشتہاری مواقع کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرین برگ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اچانک اختتام سے براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور مجموعی سیریز کی آمدنی متاثر ہوگی۔ گزشتہ سال بورڈ نے 11.3 ملین ڈالر کا خسارہ رپورٹ کیا تھا اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پرتھ ٹیسٹ کا جلد اختتام مقامی کرکٹ مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.