پاکستان ریلوے زوال کا شکار، چار ٹرینیں آؤٹ سورس کر دی گئیں
- مزید 11 ٹرینوں کے لیے آئوٹ سورسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے
پاکستان ریلوے جو طویل عرصے سے بدانتظامی اور بڑھتے ہوئے خساروں کا شکار رہی ہے، نے چار ٹرینیں آؤٹ سورس کر دی ہیں اور مزید 11 ٹرینوں کے لیے آئوٹ سورسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کو بتایا کہ اس اقدام سے مالی مشکلات کا شکار اس سرکاری ادارے کو اضافی 8.5 ارب روپے آمدن متوقع ہے، جو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس میں پاکستان ریلوے کے حکام نے بتایا کہ ادارہ تیزی سے اپنے مختلف شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی جانب بڑھ رہا ہے، جن میں کارگو سروسز، اسپتال، اسکول اور ریل سے منسلک ڈرائی پورٹس شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی خسارے پر قابو پانے اور دہائیوں پرانے ریلوے نیٹ ورک کو بحال کرنے کی حکومتی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
حکام کے مطابق 40 لگیج اینڈ بریک وینز آؤٹ سورس کی جا چکی ہیں جن سے 82 کروڑ روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ دو کارگو ایکسپریس ٹرینیں اگلے مرحلے میں شامل ہیں جن سے 6.3 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور، کراچی، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور سکھر میں واقع اسپتال، جو ماضی میں براہ راست پاکستان ریلوے کے زیر انتظام تھے، اب نجی آپریٹرز کے حوالے کیے جا رہے ہیں، اسی طرح درجنوں اسکول، کالج اور ریسٹ ہاؤسز بھی نجی شعبے کو منتقل کیے جائیں گے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ لاہور، اسلام آباد اور ازاخیل کے ڈرائی پورٹس بھی اسی طرز کی منتقلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ، ریلوے نے 155 اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ تین طویل عرصے سے غیرفعال ذیلی ادارے، ریلوے کنسٹرکشنز پاکستان لمیٹڈ، پاکستان ریلوے فریٹ ٹرانسپورٹیشن کمپنی اور پاکستان ریلوے ایڈوائزری اینڈ کنسلٹنسی سروسز کو باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام نے وزیر اعظم کو بڑے علاقائی رابطہ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی۔ طویل عرصے سے زیر بحث اسلام آباد-تہران-استنبول فریٹ سروس کو لانچ کے لیے تیار قرار دیا گیا، جبکہ قازقستان-ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریل کوریڈور پر بھی ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے۔
کراچی-کوٹری سیکشن کے ایم ایل ون اور ایم ایل تھری لائن کی اپ گریڈیشن کے لیے منصوبہ حتمی مراحل میں ہے۔ سندھ حکومت کے تعاون سے طویل عرصے سے التوا کا شکار اور سیاسی طور پر حساس مگر تجارتی لحاظ سے اہم تھر ریل رابطہ منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
وزیر اعظم نے ریلوے نیٹ ورک کو ملک کی معیشت اور مواصلاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اصلاحاتی عمل کی رفتار کو سراہا، تاہم سرحد پار منصوبوں کے لیے بین الاقوامی معیار کی قانونی اور اقتصادی مہارت پر زور دیا۔
انہوں نے ہدایت دی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو ریلوے کی زمین اور جائیداد تک بھی توسیع دی جائے، جو طویل عرصے سے تنازعات اور کم استعمال کا شکار رہی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریلوے کی ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے جاری ہے۔ رابطہ منصوبے کے تحت سات پورٹلز فعال ہو چکے ہیں، 56 ٹرینیں نظام سے منسلک کی جا چکی ہیں اور 54 اسٹیشنوں کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ بڑے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی دستیاب ہے اور 31 دسمبر 2025 تک مزید 48 اسٹیشنوں پر اس سہولت کی توسیع کی جائے گی۔
فریٹ کی آن لائن بکنگ سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے جبکہ کراچی سٹی اسٹیشن پر پائلٹ ڈیجیٹل ویئنگ برج فعال ہے، جسے بعد ازاں پپری، کراچی کینٹ، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی میں بھی نافذ کیا جائے گا۔ راولپنڈی میں سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 148 اے آئی سے لیس نگرانی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
مختلف بینکوں کے اے ٹی ایمز اسٹیشنوں پر نصب کیے جا رہے ہیں جبکہ صفائی کی خدمات آؤٹ سورس کر دی گئی ہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے نئی ویٹنگ ایریاز اور انفارمیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں اور خوراک کے معیار کی جانچ صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے سپرد کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے پاکستان ریلوے کی بحالی اور بہتری کے لیے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.