این ایف سی اجلاس 4 دسمبر کو طلب، نئے ریونیو شیئرنگ معاہدے پر توجہ مرکوز
- وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اسلام آباد میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا طویل عرصے سے زیر التوا اجلاس 4 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔
یہ اقدام مرکز اور صوبوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کے نئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طویل کوشش میں ایک ممکنہ طور پر فیصلہ کن لمحے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اجلاس اس سے قبل کئی بار ملتوی ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اسلام آباد میں اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے جہاں صوبائی اور وفاقی اسٹیک ہولڈرز نئے این ایف سی ایوارڈ کے پیچیدہ معاملے پر غور کریں گے۔
ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اگر 4 دسمبر کا اجلاس مقررہ شیڈول کے مطابق ہوتا ہے تو یہ این ایف سی کے عمل میں ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔ قبل ازیں اجلاس جو 10 نومبر کو ہونا تھا اسے بعض ارکان کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں ورکنگ لیول کی سفارشات کا جائزہ لینے، تکنیکی ذیلی گروپس قائم کرنے اور آئندہ مہینوں میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک روڈ میپ کی منظوری کی توقع ہے جو کہ وفاقی حکام کے مطابق وقت کی پابند اور نتائج پر مبنی نئے ایوارڈ کی طرف جانے والے عمل کی بنیاد رکھے گا۔
گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)کا باقاعدہ نوٹیفکیشن صدر نے 22 اگست کو جاری کیا تھا، تاہم اس کا پہلا اجلاس جو دراصل 28 اگست کو طے شدہ تھا، سندھ حکومت کی درخواست پر ملتوی کر دیا گیا تھا، جس میں صوبے کی تباہ کن سیلاب کے بعد ہنگامی صورتحال کا حوالہ دیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، سندھ کی باضابطہ درخواست موصول ہونے کے بعد این ایف سی سیکرٹریٹ نے یہ اجلاس ملتوی کر دیا تھا۔
عہدیداروں نے تسلیم کیا کہ مرکز کی محدود مالی گنجائش بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے بوجھ اور صوبوں کی زیادہ خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کی مانگ مذاکرات کو پیچیدہ بناسکتی ہے۔
منصوبے کے مطابق اگر اجلاس ہوا تو 4 دسمبر کا اجلاس ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی جگہ لینے والے نئے فارمولے کو حتمی شکل دینے کے لیے پہلا باضابطہ قدم ہوگا، جو دہائی سے وفاقی اور صوبائی مالی تعلقات کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.