BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.86%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.41%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 195.45 Increased By ▲ 2.48 (1.29%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.04 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 19.59 Increased By ▲ 0.62 (3.27%)
HBL 287.49 Increased By ▲ 1.99 (0.7%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.94 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.58 Decreased By ▼ -0.31 (-1.11%)
MLCF 87.24 Increased By ▲ 0.73 (0.84%)
OGDC 323.00 Increased By ▲ 3.04 (0.95%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.35 Increased By ▲ 0.68 (4.08%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.10 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PRL 34.78 Increased By ▲ 0.10 (0.29%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.99 Increased By ▲ 0.39 (1.47%)
TELE 8.55 Increased By ▲ 0.27 (3.26%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

ورچوئل ایسیٹس، وزیر خزانہ کو ابتدائی ریگولیٹری فریم ورک پر بریفنگ

  • اجلاس کے دوران پی وی اے آر اے کی اعلیٰ قیادت نے اتھارٹی کے مینڈیٹ، پالیسی سمت اور ورچوئل ایسیٹس کے لیے جامع گورننس ڈھانچے کی تشکیل میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
شائع November 21, 2025 اپ ڈیٹ November 21, 2025 09:13am

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کا دورہ کیا، جہاں انہیں ملک میں ورچوئل ایسیٹس کے لیے پہلے باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک پر بریفنگ دی گئی۔

محمد اورنگزیب کے بطور وزیر یہ پہلی سرکاری آمد تھی، جس کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنانا اعتماد سازی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت کے عالمی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اجلاس کے دوران پی وی اے آر اے کی اعلیٰ قیادت نے اتھارٹی کے مینڈیٹ، پالیسی سمت اور ورچوئل ایسیٹس کے لیے جامع گورننس ڈھانچے کی تشکیل میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں اتھارٹی کے مرحلہ وار طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی، جس کا مقصد اس شعبے کی ضابطہ کاری کو پاکستان کی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ رکھنا، صارفین کا تحفظ یقینی بنانا اور مالی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

وزیر خزانہ کو آگاہ کیا گیا کہ اتھارٹی نے ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، ریگولیٹری گائیڈ لائنز کی تیاری اور شفاف و واضح ورچوئل ایسیٹس نظام کے قیام کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ تمام قانونی اور طریقہ کار تقاضوں کی مکمل پابندی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے اتھارٹی کے قیام کے بعد پی وی اے آر اے ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور اسے قومی سطح کے اس اہم مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے ان کی وابستگی قرار دیا۔ انہوں نے بروقت عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری وضاحت پاکستان کے معاشی اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ اتھارٹی کو درپیش کسی بھی انتظامی مسئلے یا طریقہ کار کی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جائے، اور ساتھ ہی پی وی اے آر اے کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ مضبوط ریگولیٹری ادارے اعتماد سازی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت میں عالمی معیار سے ہم آہنگی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ ایک اہم قومی ذمہ داری ہے اور ہم اسے پاکستان فرسٹ اپروچ کے تحت ابتدا سے تشکیل دے رہے ہیں۔ اتھارٹی ذمہ دارانہ جدت، مضبوط حفاظتی اقدامات اور ریگولیٹری وضاحت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ کی رہنمائی اور تعاون ہمارے کام کو تیز کرے گا اور پاکستان کو ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں ذمہ دارانہ طور پر ایک نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

پاکستان کے لیے ورچوئل ایسیٹس کے عالمی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پی وی اے آر اے کے چیئرمین کو ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیجیٹل ایسیٹ ریگولیشنز اسٹیئرنگ کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا ہے، جو بین الاقوامی پالیسی مباحث میں پاکستان کے کردار کو مضبوط کرتا ہے اور اس شعبے میں ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی پہچان کو ظاہر کرتا ہے۔

دورے کے اختتام پر حکومت کی جانب سے ذمہ دارانہ جدت، ادارہ جاتی مضبوطی اور اس بات کے عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں ورچوئل ایسیٹس سے متعلق حکمت عملی شفاف، محفوظ اور قومی قوانین و بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مکمل مطابق رہے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.